اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 574
ربما ١٤ ۵۷۴ النحل ١٦ وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْ لَهَا مِنْ ٩٣۔اور نہ بنو اُس عورت کے جیسے جس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اپنا کاتا ہوا سوت یعنی بَعْدِقُوَّةٍ أَنْكَانَّا تَتَّخِذُونَ أَيْمَانَكُمْ مضبوط کئے پیچھے توڑ ڈالا چورا چورا کر کے کہ دَخَلَّا بَيْنَكُمُ أَنْ تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ آر بی کرنے لگو اپنی قسموں کو آپس کے جھگڑے کا سبب اس وجہ سے کہ ایک گروہ زیادہ اونچا ہو گیا ہے ہ مِنْ أُمَّةٍ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللهُ بِهِ وَلَيُبَيْنَنَ دوسرے سے۔اس کے سوا نہیں کہ اللہ تم کو انعام لَكُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيهِ دینا چاہتا ہے تمہاری کمزوری اور ان کی قوت کی تَخْتَلِفُونَ وجہ سے۔اور اللہ ضرور ضرور ظاہر کرے گا انجام کار اور قیامت کے دن (اُس چیز کا فیصلہ ) جس چیز میں تم جھگڑتے تھے۔وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً ۹۴۔اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی وَلكِنْ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِى مَنْ يَشَاءُ جماعت بنا دیتا لیکن وہ راہ سے ہٹاتا ہے جسے وَلَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ چاہیے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہے اور تمہارے کئے کی تم سے ضرور پرسش ہوگی۔وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ ۹۵۔اور نہ بناؤ آپس کی قسموں کو فساد کا سبب تو فَتَزِكَ قَدَم بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَتَذُوقُوا پھل جائے گا قدم جسے پیچھے اور تم بُری سزا چکھو ے یعنی نیک بختوں پر ہیز گاروں کو۔ا یعنی فاسقوں بدکاروں کو۔آیت نمبر ۹۳ - مِنْ أُمَّة - زمانہ جاہلیت کا دستور تھا کہ قوم آپس میں قسمیں کھاتی پھر دوسری قوم کو زبر دست دیکھتی تو قسمیں تو ڑ کر ان سے جاملتی ایسے ہی سب ریا کار دنیا پرستوں کا حال ہے کہ وہ ہوا کو دیکھتے ہیں اور خوشامد کا رُخ پلٹتے رہتے ہیں یہ کام مومنوں کی شان کے بہت بعید ہے اور قرآن شریف نے اس سے منع فرمایا ہے یعنی قسموں کا بہانہ کر کے یا تو ڑ کر ادھر سے اُدھر نہ مل جاؤ کفار کے جاہ و مال کا اعتبار نہ کرو پختہ ایمان کو دیوانی بڑھیا کے تاگے کے جیسا نہ توڑ ڈالو۔آیت نمبر ۹۴ - وَلَوْ شَاءَ اللہ۔ارشاد الہی ہے کہ اگر جبر مقصود ہوتا تو سب مسلمان ہو جاتے مگر ہم نے جبر نہیں کیا۔ضلالت کی راہ جس نے اختیار کی تو اسے گمراہ ٹھہرایا اور ہدایت کی راہیں جس نے اختیار کیں اُسے ہادی اور مہدی بنا دیتا ہے۔