اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 573
ربما ١٤ يُفْسِدُونَ ۵۷۳ التحل ١٦ کیونکہ وہ شرارت و فساد کرتے تھے۔وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِنْ ٩٠۔اور ایک دن ہم کھڑا کریں گے ہر ایک امت میں ایک گواہ انہیں میں کا اُن پر اور تجھ أَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَؤُلَاءِ b کو گواہ لائیں گے ان لوگوں پر۔اور ہم نے تیری وَنَزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانَ لِكُلِّ شَيْءٍ طرف کتاب اتاری جس میں ہر ایک چیز کا بیان وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ ہے کھلا کھلا اور ہدایت اور رحمت ہے اور خوشخبری ہے فدائی فرمانبرداروں کے لئے۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَاي ا اللہ حکم دیتا ہے عدل کا سب کے ساتھ اور (بڑھ کر ) احسان کرنے کا اور قرابت داروں کے (جیسا) دینے کا اور منع فرماتا ہے ذاتی بدی سے ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اور زیادہ بدی سے اور بغاوت سے تم کو نصیحت کرتا ہے تا کہ تم یاد کر لو اور بڑے آدمی بن جاؤ۔وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عُهَدْتُمْ وَلَا تَنقُضُوا ۹۲۔اور پورا کرو اللہ کا اقرار جب تم آپس میں الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ الله قول و قرار کرو اور نہ تو ڑ وقسموں کو ان کے پختہ کئے وَقَدْ ط عَلَيْكُمْ كَفِيلاً * إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ پیچھے اور تم کر چکے ہو اللہ کو اپنا ضامن۔بے شک اللہ جانتا ہے جو کر توت کرتے ہو یا کرو گے۔آیت نمبر ۹۰۔شہیدا۔جب مامور آئے تو اسی قوم کا ہوگا۔آیت نمبر 9 - يَأْمُرُ۔اس آیت میں تین حکم فرمائے ہیں۔عدل۔خدا کے ساتھ اور مخلوق کے ساتھ۔دوسرے احسان جو بڑھ کر نیکی کرتا ہے۔تیرے۔اِيْتَائِ ذِي الْقُرُبی۔وہ احسان سے بھی بڑھ کر نیکی کرتا ہے اور یہ ہر ایک دو دو قسم پر ہے۔بدیں بھی تین قسم کی ہیں۔ذاتی بدی جیسے نفاق و تکبر وغیرہ اس کو فحشا ء فرمایا ہے۔دوسرے وہ بدی جو متجاوز ہواس کو منکر کہا ہے۔تیسرے بغاوت جو بڑی خطرناک بدی ہے۔فخشَآء خلاف تہذیب اخلاق ذاتی برائیاں۔منگر خلاف تدبیر منازل قومی برائیاں۔وَالْبَغْيِ خلاف سیاست مدن حاکم سے سرکشی ریاست کی خلاف ورزی۔آیت نمبر ۹۲ - وَاَوْفُوْا۔یعنی رسول اللہ سے صلح ہونے والی تھی۔توڑنے والے تھے جس پر تاکید اور پیشگوئی فرمائی گئی تھی۔