اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 570
ربما ١٤ ۵۷۰ التحل ١٦ يَسْتَوْنَ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ اَكْثَرُهُمُ کرتا رہتا ہے چھپا چھپا کر خلوص سے اور دکھا دکھا کر ترغیب کے لئے کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے لَا يَعْلَمُونَ ہیں۔سب تعریف و واہ واہ اللہ ہی کی ہے۔بہت سے منکر تو جانتے ہی نہیں۔وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا زَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا۔اور اللہ نے اعلیٰ درجہ کی بات فرمائی ۷۷۔(یعنی ) دو آدمی ہیں ایک تو بالکل گونگا ہے وہ کچھ أَبُكُمْ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى بھی نہیں کر سکتا وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے جہاں مَوْلهُ " أَيْنَمَا يُوَجْهَةُ لَا يَأْتِ بِخَيْرِ کہیں اسے بھیجو وہ خیریت کے ساتھ نہیں آتا کیا هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ یہ برابر ہوسکتا ہے اس شخص کے جو انصاف کا حکم کرتا ہے اور وہ سیدھی راہ پر ہے؟ کے وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍة وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا۔اور اللہ ہی کو معلوم ہیں آسمانوں اور زمین ۷۸ کی چھپی باتیں۔اور نجام کار تو اتنا ہی ہے جتنا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ پلک مارنا یا اس سے بھی زیادہ جلدی بے شک أَقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ اللہ ہر ایک شے کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔یہ غیر ملہم رسم ورواج کے پابند کی مثال ہے جو نا پسند آقا ہے۔صاحب وحی والہام ہادی ہوتا ہے جو راہِ راست پر لاسکتا ہے۔صاحب وحی و الہام خود بھی مستقیم الحال ہوتا ہے۔آیت نمبر 4۔هَلْ يَسْتَوْنَ۔یعنی بُت جو بُت پرستوں کے اختیار میں ہیں یا مر دے جو زندوں کے اختیار میں ہیں یا بت پرست جو اپنے گروؤں کے اختیار میں ہیں۔دوسرے بھی اور اس کے ساتھ والے جس کو ہم نے اپنی ذات سے اختیار دیا ہے دونوں کہاں برابر ہو سکتے ہیں۔کیا اچھی مثال دی ہے۔آیت نمبر ۷۷ - اَحَدُهُمَا اَبكَم یعنی دوسروں کو راہ راست پر لا سکتا ہے نہ اپنی صاف صاف کہہ سکتا ہے۔لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْ۔یعنی اخلاقی اور روحانی ترقی نہیں کر سکتا اور نہ اصلاح عادات۔لَا يَأْتِ بِخَيْرِ۔وہ اپنی منصو بہ بازیوں اور پیشگوئیوں یعنی انکل بازیوں میں کامیاب نہیں ہوتا۔اور اس سے کارحق بن نہیں پڑتا نہ اس کی توفیق پا سکتا ہے۔