اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 569
ربما ١٤ ۵۶۹ التحل ١٦ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَةً تمہاری بیبیوں سے بیٹے اور پوتے اور تمہیں کھانے کو دیں پاکیزہ ستھری چیزیں۔تو کیا یہ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَتِ أَفَبِالْبَاطِلِ لوگ جھوٹی باتیں مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا يُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَتِ اللهِ هُمْ يَكْفُرُونَ انکار کرتے ہیں۔وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَا يَمْلِكُ ۷۴۔اور پوجتے ہیں اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو جو ان کو کھانا دینے کا بھی اختیار نہیں رکھتیں لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ آسمانوں اور زمین میں سے کچھ۔اور نہ کچھ مقدور ہی رکھتی ہیں۔فَلَا تَصْرِ بُو اللَّهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ ۷۵۔تو اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کیا کرو بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔وَانْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوْعًا لَّا يَقْدِرُ - اللہ نے اعلیٰ درجہ کی مثال بیان فرمائی ہے عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ زَزَقْنَهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا کہ ایک مملوک غلام ہے۔وہ کسی چیز پر قدرت نہیں پاتا اور ایک ایسا ہے جس کو ہم نے روزی فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَ جَهْرًا - هَلْ دی ہے خود ہی عمدہ روزی اور اس میں سے خرچ ا یعنی دوسرے کے قابو میں۔آیت نمبر ۷۳۔بَنِينَ وَحَفَدَةً۔یعنی دنیوی ہر کام بتدریج ہوتا ہے دیکھو نکاح ہوتے ہی بچے اور بچوں کے بچہ نہیں ہو جاتے اور پاکیزہ روزی میں بھی دھیان کرو اسی طرح اس نبی کی بھی کامیابی بتدریج ہوگی۔هُمْ يَكْفُرُونَ۔یعنی نبی اور اعلیٰ درجہ کا نبی ہوتا تو جھٹ کامیاب ہو جاتا ایسی واہیات باتوں کے ماننے سے نعمت اللہ کا انکار کر دیا یعنی نبوت کا۔آیت نمبر ۷۴ - لَا يَسْتَطِيعُونَ۔یعنی جھوٹے معبود نہ آسمان سے پانی برساتے نہ زمین سے غلہ ، نہ اُن کے اسبابوں پر قدرت رکھتے ہیں پھر کیسے معبود ہو سکتے ہیں۔آیت نمبر ۷۵۔فَلَا تَضْرِبُوا۔یعنی خدا کو تم خود کسی درجہ کا قرار نہ دو کیونکہ تم نادان جاہل ہو اس کی صفات سے جیسے اکثر نا دان کہا کرتے ہیں کہ خدا کی مثال بادشاہ کی جیسی ہے اور انبیاء، اولیاء، وزراء اور امراء کی طرح ہیں جن کی وساطت کے بغیر کچھ کام نہیں چل سکتا اور عیسائی تو کہتے ہیں کہ خود خدا انسان کی شکل میں آ گیا جب نبیوں سے کام نہ چلا۔نَعُوذُ باللهِ مِنْهَا۔