اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 568 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 568

ربما ١٤ ۵۶۸ التحل ١٦ وَاللهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّكُمْ وَمِنْكُمْ۔اور اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے پھر مَّنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ تمہاری روح قبض کرے گا اور بعض کو تم میں سے ارذل عمر کی طرف لوٹائے گا تا کہ کچھ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ عَلِيْمٌ قَدِيرٌ لج نہ جان سکے جان بوجھ کر وہ۔بے شک اللہ بڑا جاننے والا ہے ہر ایک کام کی مصلحتیں اور بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔وَاللهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمُ عَلَى بَعْضٍ فِي ٢ے۔اور اللہ نے برتری دی ہے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں پھر جن کو بزرگی دی گئی الرِّزْقِ فَمَا الَّذِيْنَ فَضْلُوْا بِرَادِى ہے وہ اپنی روزی لوٹا نہیں دیتے اپنے مملوک رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ اور ماتحتوں پر کہ وہ سب برا بر ہو جائیں کیا یہ فِيْهِ سَوَاءٍ أَفَبِنِعْمَةِ اللهِ يَجْحَدُونَ لوگ اللہ کی نعمت کے جان بوجھ کر منکر ہیں۔لے وَالله جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا ۷۳۔اور اللہ تعالیٰ نے بنا دیں تمہیں میں سے بیبیاں تمہارے لئے اور پیدا کئے تمہارے لئے لے یعنی عطائے نبوت کے۔(بقیہ حاشیہ ) اصل ان کو معلوم نہیں ہوتی اور نبی و غیر نبی کی تعلیمات خوب مختلط ہو جاتی ہیں تو مثل برسات کے الہام شروع ہو جاتا ہے جو اولیاء اللہ و ماموروں کا حق ہوتا ہے اس سے دودھ کو الگ کیا جاتا ہے اور فضلات کو الگ۔ملہمین کی ذات پاک دودھ کو اس طرح الگ کر دیتی ہے کہ عقلی تجربہ والے تحقیقات کے بعد بھی کچی صداقت کو نہیں پہنچتے۔ایک سوال یہ ہے کہ جب مسائل سمجھ لئے تو پھر الہام کی کیا حاجت رہی۔جواب یہ ہے کہ اگر بچہ کو دودھ ایک وقت دے کر چھوڑ دیا جائے تو وہ ہلاک ہو جائے جیسا ہر وقت کھانے پینے کی ضرورت ہے ویسے ہی تعلیم الہی کی بھی ہر وقت ضرورت ہے۔یہ سوال ہو سکتا ہے کہ جب وہ بچہ جوانی کو پہنچ گیا تو اب دودھ کی کیا حاجت رہی۔تو جواب یہ ہے کہ نتائج اور پھلوں کی حاجت ہے جیسا کہ اَلنَّخِيلَ وَ الْأَعْنَاب والے عتاب میں اشارہ ہے۔پھر بڑھاپے میں شہد کی ضرورت اکثر بیماریوں میں ہوتی ہے یہ الہام کی تین مثالیں ہوئیں اور شریعت حقہ کا بیان أُنْزِلَ مِنَ السَّمَاءِ میں ہو چکا ہے۔آیت نمبر ۷۲۔بِرَآدِی رِزْقِهِمْ۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول“ کو خدا نے اعلیٰ درجہ کی نبوت دی ہے وہ دوسروں کو مستقلا نہیں دے سکتے جیسے کسی کو اعلیٰ درجہ کی چیز ملی تو وہ اپنے ماتحتوں کو پوری پوری دے کر اپنے برابر نہیں کر سکتا اور مفلس و قلاش نہیں بنتا۔