اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 564 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 564

ربما ١٤ ۵۶۴ التحل ١٦ وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِمَّا ۵۷۔اور ٹھہراتے ہیں ایسوں کا ایک حصہ جن کو رَزَقْنَهُمْ تَاللهِ لَتَسْلُنَ عَمَّا كُنتُمْ وہ جانتے نہیں ہماری دی ہوئی روزی میں سے اللہ کی قسم ! ضرور تم سے پوچھنا ہے جو تم افترا تَفْتَرُونَ b کرتے تھے۔وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنْتِ سُبْحَنَهُ وَلَهُمْ مَّا ۵۸ - ٹہراتے ہیں اللہ کے لئے بیٹیاں وہ تو پاک ذات ہے اور اپنے لئے جو جی چاہتا ہے يَشْتَهُونَ مُسْوَدًا وَهُوَ كَظِيمُ 8 (یعنی بیٹے )۔وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنثَى ظَلَّ وَجْهُهُ ۵۹۔اور جب ان میں سے کسی کو خوش خبری دی جاتی ہے بیٹی پیدا ہونے کی ( تو ) ہو جاتا ہے اس کا منہ کالا اور وہ غم سے اپنے کو گھونٹے رہتا ہے۔يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ٢٠۔قوم سے چھپتا پھرتا ہے اُس چیز کی بُرائی أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُوَنِ أَمْ يَدُسُّهُ فِي سے جس کی خوش خبری دی گئی کیا اسے رہنے دوں ذلت قبول کر کے یا اسے مٹی میں گاڑ آؤں۔القُرَابِ اَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ ہوشیار ہو جاؤ یہ کیا بُرا فیصلہ کرتے ہیں۔آیت نمبر ۵۷۔تَفْتَرُونَ۔یعنی زبر دستی بغیر اجازت الہی نذر اور بھینٹ مخلوق کی تم نے ناجائز طور پر ٹھہرا لیں حالانکہ یہ سب کام اللہ ہی کے لئے کرنا تھا یا اس کے حکم سے۔کیا خوب کہا حضرت سعدیؒ نے کہ ہ نہ بے حکم شرع آب خوردن خطاست اگر خون به فتوی بریزی رواست آیت نمبر ۵۸ - لِلهِ الْبَنْتِ - نصاری خدا کو باپ مخلوق کو بیٹا۔عرب خدا کو باپ، اپنے کو بیٹیاں، برہموخدا کو ماں کہتے ہیں سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ۔آیت نمبر ۶۰ - في التُّرَابِ۔آنحضرت جب لڑکیوں کو قتل سے بچانے کا وعظ فرمارہے تھے تو ایک شخص چلا اٹھا کہ مجھے ایک حسین لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کے حسن نے قتل سے روکا مگر اس کی جوانی نے مجھے غیرت سے مجبور کیا میں نے اس کی والدہ کو عمدہ پوشاک اور زیور سے آراستہ کرنے کا حکم دیا پھر میں اُسے جنگل میں لے گیا جہاں پہلے سے کنواں تیار کر لیا تھا لڑکی میرا ارادہ معلوم کر کے بہت بلبلائی اور چلائی کہ اے میرے باپ! میں تیری وہی پیاری بیٹی ہوں جس کو تو نے شفقت سے پالا گو میرا دل پگھلا مگر غیرت نے مجبور کیا اور میں نے اسے کنوئیں میں دھکیل دیا ایک اور شخص نے کہا کہ میں نے آٹھ لڑکیاں قتل کی ہیں۔یہ رحمتہ للعالمین نے عرب پر رحم فرمایا کہ بے رحمی کو رحم سے بدل دیا اور قتل موقوف۔اَللهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِكُ وَسَلَّمْ