اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 560 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 560

ربما ١٤ ۵۶۰ التحل ١٦ يَقُولُونَ سَلَمٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا عرض کرتے ہیں سلام علیکم۔چلو جنت میں اُن کاموں کے سبب سے جو تم کرتے رہے۔كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَيْكَةُ ۳۴۔کیا یہ منکر اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان أَوْ يَأْتِي أَمْرُ رَبَّكَ كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ کے پاس فرشتے آ جائیں یا تیرے رب کے عذاب کا حکم آ جائے ان کے اگلوں نے بھی یوں مِنْ قَبْلِهِمْ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللهُ ہی کیا تھا اور اللہ نے تو کچھ ظلم نہیں کیا ان پر لیکن وَلكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ) وہ اپنی جانوں پر آپ ہی ظلم کرتے رہے۔فَأَصَابَهُمْ سَيَاتٌ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِمْ ۳۵ - پھر ان کو پہنچی ان کے کرتوت کی برائی اور اُن کو گھیر لیا اس چیز نے جس کی وہ ہنسی اڑایا مَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ۔کرتے تھے۔وَقَالَ الَّذِيْنَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا ۳۶۔اور کہا شرک کرنے والوں نے اگر چاہا ہوتا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهِ مِنْ شَيْ نَحْنُ وَلَا اللہ نے تو ہم نہ پوجتے اللہ کے سوا کسی چیز کو نہ ہم نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم حرام ٹھہراتے اس ابَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ کے حکم کے بغیر کوئی چیز اُن کے اگلوں نے بھی كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ یوں ہی کیا ہے تو رسولوں پر پہنچا دینا ہی ہے E صاف صاف بیان کر کے۔فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَاغُ الْمُبِينُ 色 وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا ۳۷۔ہم نے بے شک ہر ایک امت میں رسول اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ بھیجے یہ کہلا کر کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور سرکشوں اور بتوں سے بچو تو ان میں سے بعض نے اللہ کا کہنا هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ سنا اور بعضوں پر ثابت ہوگئی گمراہی تو سیر کرو الصَّللَهُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا زمین میں اور دیکھ لو کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔۔كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ یعنی انہوں نے سزا پائی انعام نہیں پایا۔ے یعنی اللہ کا کہنا نہ سنا گمراہ ہو گئے۔آیت نمبر ۳۴ - مِنْ قَبْلِهِمْ۔یعنی سب نافرمانوں نے بلا اجازت خدا کے بے جا کام کیا ہے یعنی ظلم کیا ہے! نفسوں پر پارہ نمبر ۸ رکوع ۴ میں یہی مضمون بتفصیل مذکور ہے وہاں ملاحظہ ہو۔یہ مضمون رڈ جبر میں ہے۔