اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 556 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 556

ربما ١٤ ۵۵۶ التحل ١٦ يَذَّكَّرُونَ والے لوگوں کے لئے ہے۔وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا ۱۵ - وہی اللہ ہے جس نے تابع کر دیا دریا کو تاکہ طَرِيَّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور نکا لواس میں سے زیور جس کو تم پہنتے ہوتے۔اور تو دیکھتا ہے وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوا کشتیوں کو کہ ہوا اور پانی کو چیرتی ہوئیں دریا میں مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ چلی جاتی ہیں اور تاکہ تم حاصل کرو اس کا فضل اور دولت اور شکر گزار بن جاؤ“۔وَالْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ ١٦۔اور رکھ دیئے زمین میں پہاڑ تاکہ زمین تَمِيْدَ بِكُمْ وَأَنْهُرًا وَسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ زلزلہ کھائے تمہارے ساتھ اور ندیاں اور راستے بنائے تا کہ تم منزل مقصود کو پہنچ جاؤ۔تَهْتَدُونَ وَعَلَمْت وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ ۱۷۔اور بہت سی نشانیاں بنائیں اور وہ راہنما تارے سے ہی ہدایت پاتے ہیں۔أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۱۸۔ایسا کہیں ہوسکتا ہے کہ جو پیدا کرتا ہے وہ اس کے برابر ہو جائے جو نہیں پیدا کر سکتا ؟ کیا دلیل ۱۳ دلیل ۱۴ یعنی اقسام مچھلی کا۔جیسے موتی مرجان وغیرہ۔۵ دلیل ۱۵ دلیل ۱۶ کے اعتقاد خلق طیر عیسی علی نبینا وعلیہ السلام کا رڈ ہے۔آیت نمبر ۱۶۔تَمِيدَ بِكُمْ۔مید چکر کھانا۔دوسرے مَيَّدَةً ، مَائِدَةً سے بنا ہوا یعنی اُن سے برف پگھل کر بہتی ہے اور چشمے جاری ہو جاتے ہیں اور سامان غذا جاری ہوتے ہیں تیسرے مَيَّدَةٌ کے معنی ٹھہرنے کے ہیں چوتھے میدہ کے معنی جو کھاتے ہیں۔آیت نمبر ۱۷۔بِالنّجم۔ذات پاک رسول اکرم اللہ سے مراد ہے۔جب آدمی جسمانی راستوں کے لئے ستاروں کو راہ نما بناتے ہیں تو روحانی راستوں کے لئے کیا کسی راہ نما کی ضرورت نہیں ہے بے شک النجم کی ہے ور النجم سے مراد عموماً عربی زبان میں ثریا تارہ مراد لیتے ہیں یوں معنی کسی اعتبار سے قطب بھی ہو سکتا ہے وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ یعنی ہدایت روحانی سے بس انبیاء کو حاصل کر لواس النجم کو نہ چھوڑو۔