اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 49
سيقول ٢ ۴۹ البقرة ٢ ط قِبْلَتَهُمْ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ گے اور نہ تو ہی پیروی کرنے والا ہے ان کے قبلہ کی اور نہ اہل کتاب میں سے کوئی کسی کے قبلہ کی پیروی وَلَبِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا کرنے والا ہے اور (اے مخاطب !) اگر تو چلا ان جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذَا لَمِنَ کی خواہشوں پر علم حاصل ہوئے بعد جب تو بے شک بے جا کام کرنے والوں میں سے ہو جائے گا۔الظَّلِمِينَ الَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا ۱۴۷۔اہل کتاب ( محمد مصطفی احمد مجتبی ) کو پہچانتے يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَاِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور کچھ لوگ اُن میں کے ایسے بھی ہیں جو ضرور چھپاتے ہیں حق بات کو حالانکہ وہ جانتے ہیں۔اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ۱۴۸۔سچ کے تیرے پروردگار کی طرف سے ہی ہے تو تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا ہے۔ليَكْتُمُونَ الْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ۔الْمُمْتَرِينَ وَلِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَتِيْهَا فَاسْتَبِقُوا ۱۴۹۔اور ہر ایک کے لئے ایک طرف ہے جدھر کو وہ الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوْايَاتِ بِكُمُ منہ پھیرتا ہے تو (مسلمانو) تم نیکیوں کی طرف دوڑو گے لے جب آپس ہی میں اتفاق نہیں تو وہ کسی کی کیوں سننے لگے۔الحق سے مراد یہاں کعبہ کی طرف منہ کرنا ہے۔اے مخاطب جہت کعبہ میں۔کے نیکیوں میں پیش دستی کرو۔آیت نمبر ۱۴۷ - كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ۔اس پہچانت سے زیادہ اگر آدمی تر ڈ د اور غور وفکر کرے تو شبہات کا دروازہ کھلتا ہے اور حسن ظن مارا جاتا ہے۔تحقیقات کے لئے قرائن قویہ کافی ہیں، زیادہ تحقیقات مناسب نہیں۔آیت نمبر ۱۴۹۔وَلِكُلّ وِجْهَةٌ۔ایک توجہ سے مراد پرستش اور دوسرے رو آوردن به طرفے۔کسی طرف متوجہ ہونا۔تو یہاں پرستش مراد نہیں فقط توجہ مراد ہے۔بنی (بَنَاءُ الطَّوَاف ) کی طرف کعبہ میں نماز پڑھنے والوں کی خصوصاً حنفیوں کی پشت رہتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی کے پرستار نہیں سوا اللہ کے اور صرف