اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 549
ربما ١٤ ۵۴۹ الحجر ١٥ قَالُوا اَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَلَمِينَ اے۔وہ بولے کیا ہم نے تجھ کو منع نہیں کیا تھا دنیا اور جہان سے۔قَالَ هَؤُلَاءِ بَنْتِى إِنْ كُنْتُمْ فَعِلِينَ ) ۷۲۔لوط نے کہا یہ میری بیٹیئیں (ضمانت میں ) حاضر ہیں اگر تم کو تحقیقات کرنا ہے۔لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ ۷۳۔قسم ہے تیری ذات کی اے پیارے محمد ! کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ اپنے نشہ میں دل يَعْمَهُونَ ) کے اندھے ہورہے تھے۔فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ ۷۴۔تو ان کو ایک ہولناک عذاب نے آلیا سورج نکلتے نکلتے۔فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ ۷۵۔پھر ہم نے اس بستی کو زیر وزبر کر ڈالا اور حِجَارَةً مِّنْ سِجِيلِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِلْمُتَوَسِمِينَ وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقِيمِ ان پر برسائے پتھر کنکر۔ے۔اس میں بے شک نشانیاں ہیں ذی فراسہ لوگوں کے لئے۔۷۷۔اور وہ بستی سدا آمد ورفت کی راہ پر ہے۔اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ ۷۸۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اس میں بڑی نشانی ہے ایمانداروں کے لئے۔وَإِنْ كَانَ أَصْحَبُ الْأَيْكَةِ لَظْلِمِينَ ۷۹۔اور بے شک ایکہ ( یعنی بن ) کے رہنے یعنی ادھر اُدھر کے لوگوں کو اپنے پاس نہ آنے دینا۔- والے ظالم ہی تھے۔۔سے شعیب کی قوم والے۔بحر مردار کے قریب آیت نمبر ۷۲۔بنی۔ضغر کے قریب ہی ایک پہاڑ تھا وہاں۔طوائف الملو کی کے زمانہ میں امراء کے حملوں کے خوف سے یہ خیال پیدا ہوا کہ کسی قوم کے جاسوس لوط نے گھر میں چھپالئے ہیں اس لئے ان کی تباہی کے درپے ہوئے اس خیال کے دفعیہ کے لئے لوط علیہ السلام نے اپنی بیٹیوں کو بطور ضمانت کے پیش کیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ جاسوس ثابت ہوں تو میرے لوگوں کو سزا دی جائے۔اور طالب الزام تھے اس لئے خوش تھے۔آیت نمبر ۷۹۔اَلاَيْكَة - ایکہ درختوں کے ہن۔مدین کے شہر کے اطراف درختوں کے بہت جھنڈ ہیں اس لئے یہ لوگ ایکہ والے کہلاتے ہیں یہی شعیب علیہ السلام کی قوم ہے۔