اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 548
ربما ١٤ ۵۴۸ الحجر ١٥ فَلَمَّا جَاءَ أَلَ لُوْطِ الْمُرْسَلُونَ ) ۶۲۔جب آئے لوط کے خاندان کے پاس فرشتے۔قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمُ مُنْكَرُونَ ۶۳۔گو ط نے کہا تم تو کوئی (بے پہچانت ) اجنبی لوگ دکھتے ہو۔قَالُوا بَلْ جِئْنَكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ ۶۴۔انہوں نے جواب دیا ہم تیرے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں تیری قوم شک کرتی تھی۔يَمْتَرُونَ وَآتَيْنَكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَدِقُونَ ۶۵۔اور ہم تیرے پاس سچا وعدہ لائے ہیں اور ہم بالکل بچے ہیں۔فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطِع مِنَ الَّيْلِ وَاتَّبِعُ ۶۶۔تو تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کے ساتھ نکل جا اور تو ان کے پیچھے پیچھے چل أَدْبَارَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ أَحَدٌ اور کوئی مڑ کر نہ دیکھے تم میں سے پیچھے تم کو جیسا حکم ملا ہے ویسا ہی چلے جاؤ۔وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَلِكَ الْأَمْرَانَ دَابِرَ هَؤُلَاءِ۔اور ہم نے لوط کی طرف قطعی وحی بھیج دی اس امر کی کہ ان لوگوں کی جڑ بنیاد کاٹ دی مَقْطَوع مُصْبِحِيْنَ جائے گی صبح ہوتے ہوتے۔وَجَاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ ۶۸۔اور شہر والے آئے بشارت دیتے ہوئے۔۔قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ ضَيْفِي فَلَا تَفْضَحُونِ ۲۹ - لوط نے کہا یہ لوگ تو میرے مہمان ہیں تو تم مجھ کو رسوا نہ کرو۔ے۔اور اللہ کو سپر بناؤ اور مجھے ذلیل نہ کرو۔وَاتَّقُوا اللهَ وَلَا تُخْزُوْنِ یعنی عذاب الہی۔کہ لوط نے قومی خلاف ورزی کی۔سے یعنی جاسوسی وغیرہ کی تہمت مہمانوں پر لگا کر میری بے وقعتی نہ کرو۔آیت نمبر ۶۶ - لوط۔قوم لوط کی بستیاں بحر مردار کے کنارہ پر تھیں جو بدکاری کی وجہ سے تباہ ہوگئیں جن کے نام سڈوم عمورہ اور ضُغر غر گما تھے۔وَامْضُوا۔چنانچہ حضرت لوط شہر شغر کو چلے گئے۔