اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 545
ربما ١٤ ۵۴۵ الحجر ١٥ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ کہ کسی ایسے آدمی کا فرمانبردار ہو جاؤں جس کو تو نے پیدا کیا کھنکھناتی مٹی سے جس پر کئی برس گزرے ہوں۔قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَحِيمٌ ) ۳۵۔اللہ نے فرمایا تو اس حالت مذموم سے الگ ہوجا کیونکہ تو ہلاک شوندہ ہے۔و اِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلى يَوْمِ الدِّينِ۔اور تجھ پر در بدری ہے انصاف کے وقت تک۔قَالَ رَبِّ فَانْظُرْنِي إِلَى يَوْمِ ۳۷۔شیطان نے کہا اے میرے رب ! مجھے مہلت دے اس وقت تک جب لوگ تبدیلی يُبْعَثُونَ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ) إلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوم۔کریں گے۔۳۸۔ارشاد ہوا تجھ کو تو مہلت ہی ہے۔۳۹۔ایک معین وقت تک۔قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا زَيْنَنَّ لَهُمْ ۴۰۔شیطان نے کہا (اپنی جگہ ) اے میرے رب ! اس وجہ سے کہ تو نے مجھے کو راہ سے ہٹا دیا في الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِيْنَ میں ملک میں آدمیوں کو بہاریں دکھاؤں گا اور الا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ إِلَّا ضرور سب ہی کو بہکا دوں گا۔۴۱۔مگر ان میں کے تیرے خاص بندے (کہ ان کو نہ بہکا سکوں گا)۔۔شرعی حکم بطور نصیحت کے فرمایا۔آیت نمبر ۳۷۔قال۔بذریعہ نبی یا فرشتوں کے بطور حکم شرعی نہ بطور حکم کونی کے۔ارادہ۔مشیت۔قضا۔امر۔کن۔حکم۔خلق۔جعل وغیرہ یہ سب امورِ کونیہ ہیں دوسری قسم کے امر شرعی ہیں جس میں تخلف مخلوق کر سکتی ہے اور قسم اول میں نہیں۔يُبْعَثُونَ۔یعنی ہر ایک مامور کے وقت میں نمایاں بدکاریاں دکھاؤں گا۔آیت نمبر ۴۰۔لَا زَيْنَنَّ۔ان کو بناؤ سنگار حرص کی دھت لگاؤں گا۔آیت نمبر ۴ - المُخْلَصِينَ - إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَنِ كَانَ ضَعِيفًا (النساء: ۷۷) بھی آیا ہے کسی بدکار یا نیکوکار پر شیطان نے جبر نہیں کیا ہم نے بڑے بڑے بدکاروں سے پوچھا ہے کہ کیا تم کو کوئی جبر کر کے لے گیا ہے تو کہا نہیں بلکہ ہم خود ہی گئے ہاں کوئی اس کو اپنے پر مسلط کر لے اور راضی ہو جائے تو خوب ناچ نچوا تا ہے۔