اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 538 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 538

و ما ابرئ ۱۳ ۵۳۸ ابراهيم ١٤ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ کی اور اللہ کے پاس ہے ان کی تدبیر اور ان کی تدبیر سے جو پہاڑ مصیبتوں کا گرنے والا تھا وہ مِنْهُ الْجِبَالُ۔نہیں گر سکا تے۔فَلَا تَحْسَبَنَّ اللهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَه ۴۸۔تو اے مخاطب! تو ایسا خیال نہ کرنا کہ اللہ وعدہ خلافی کرے گا اپنے رسولوں سے۔کچھ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ شک نہیں کہ اللہ بڑا زبردست بدلہ لینے والا ہے۔يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ ۴۹۔جس دن اس زمین کے سوا اور زمین بدلی وَالسَّمَوتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ جائے گی اور آسمان بھی اور لوگ کھڑے ہوں الْقَهَّارِ گے وَاحِد قَهَّار کے سامنے۔وَتَرَى الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُقَرَّنِينَ ۵۰ اور جناب الہی سے قطع تعلق کرنے والوں کو ( تو ) اس دن دیکھے گا جکڑے ہوئے بڑے فِي الْأَصْفَادِة ا یعنی اللہ کے اختیار میں ہے وہ تدبیر چلنے دے یا روک دے۔رسوں میں۔یعنی فضل الہی ہو گیا۔آیت نمبر ۴۸ - ذُو انْتِقَامٍ - نصاری بڑے ہمدرد و رحیم کہلاتے ہیں ان سے پوچھا کہ عیسی کا کفارہ یہود کے لئے بھی مفید ہے یا نہیں تو وہ گھبرا اٹھے اسی طرح شیعہ جو حضرت حسین کو کفارہ مانتے ہیں مگر انتقام کے درپے ہیں وغیرہ وغیرہ۔تو میں غور کریں کہ انتقام کا مسئلہ بھی برحق ہے۔آیت نمبر ۲۹ - تبدلُ الْأَرْضُ۔یہ مطلب بھی ہے کہ زمین کفر کی بدل کر اسلام کی زمین ہو جائے گی اور آسمان بجائے غضب نازل کرنے کے رحمت نازل کرے گا۔یعنی عالم آخرت میں وہاں کے مناسب حال اور ہی زمین و آسمان ہوں گے۔یہاں کے زمین و آسمان نہ ہوں گے جیسا کہ ارشاد ہے يَوْمَ نَطْوِی السَّمَاءِ كَطَيّ السّجِلِ لِلْكُتُبِ الخ (الانبياء (۱۰۵) اور دنیا میں منتفی غالب ہو جائیں گے کافروں کی املاک و زمین پر۔آیت نمبر ۵۰- في الأَصفَادِ۔یعنی جس سے چوروں اور گدھوں وغیرہ کو باندھتے ہیں پیشگوئیوں کا ظہور اُخروی امور کے ثبوت کے لئے ضروری و قطعی ہے۔