اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 537
و ما ابرئ ۱۳ ۵۳۷ ابراهيم ١٤ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ ۴۴۔دوڑتے ہوں گے اپنے سر اٹھائے ہوئے الَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَافَدَتُهُمْ هَوَاءِ اپنی طرف پلٹ کر نہ دیکھتے ہوں گے اور ان کے دل ہوا بنے ہوئے ہوں گے۔وَانْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ ۴۵۔اور لوگوں کو اس دن سے ڈرا دے کہ آ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوْا رَبَّنَا أَخَّرْنَا إِلَى پڑے گا ان پر عذاب تو ظالم کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں ذرا مہلت دے کہ ہم مان لیں أَجَلٍ قَرِيبٍ أَجِبْ دَعْوَتَكَ وتبيع تیری پکار اور تیرے رسول کی چال چلیں 2 کیا وَنَتَّبِع الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ تم وہ لوگ نہیں ہو جو قسمیں کھایا کرتے تھے اس سے پہلے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔قَبْلُ مَا لَكُمْ مِنْ زَوَالٍ وَ سَكَنْتُمْ فِي مَسكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا ۶۔اور تم رہتے تھے انہیں کے مکانوں میں أَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تم کو خوب وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْأَمْثَالَ معلوم ہو چکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا معاملہ کیا تھا اور ہم نے تمہارے لئے مثالیں بیان کر دیں تھیں۔وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللهِ ۴۷۔اور تحقیق انہوں نے اپنے ڈھب کی تدبیر یعنی حواس باختہ ہوں گے، ہوش اڑے ہوئے ہوں گے۔مہلت نہیں بلکہ جواب یہ ہے کہ تم تو اپنے کو لازوال سمجھتے تھے۔آیت نمبر ۴۶ - الامثال۔یعنی شجر طیب اور شجر خبیث کی جو اس پارہ کے رکوع ۱۶ میں آچکا ہے اور پندو نصیحت کے لئے خَیرُ الْوَاعِظِ الْمَوْتُ ہے جو سیدنا عمر کی مُہر مبارک میں بھی کھدوایا ہوا تھا۔؎ مجلس وعظ رفتنت هوس است مرگ ہمسایہ واعظے تو بس است جناب گوتم بدھ نے بھی خوب کہا جبکہ ان کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کی میرا بچہ ابھی مر گیا ہے آپ بڑے مہاتما ہیں کر پا کر کے اُسے زندہ کر دو۔چونکہ مرض لا علاج تھا کہا کہ بہتر مگر رائی کے چند دانے ایسے گھر سے لا دے جہاں کوئی مرا نہ ہو۔آخر عورت نے پھر پھر کر مردہ کے دفنانے کی اجازت حاصل کی اور مرید ہوگئی۔راستی کا راستہ اختیار کر لیا۔”مرگ انبوہ جشنے دار کے رنگ میں فرمایا تا کہ وہ تسکین پا جائے سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔