اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 535
و ما ابرئ ۱۳ ۵۳۵ ابرهيم ١٤ b وَاتُكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۳۵۔تم کو دیا ہر ایک چیز میں سے جو تم نے مانگا اس سے اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو پورا b وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا کبھی نہ گن سکو گے ان کو۔بے شک انسان بڑا ہی إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارَةً چ اپنی جان پر ظلم کرنے والا حد درجہ کا ناشکرا ہے۔وَاذْقَالَ ابْرُ هِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ ۳۶۔اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے ربّ اس مکہ کے شہر کو ( دجال کے فتنہ سے ) امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو بچالے امِنَّا وَاجْنُبْنِي وَبَنِي أَنْ نَّعْبُدَ بت پرستی سے۔الْأَصْنَامَ قُ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ ۳۷۔اے میرے رب ! ان مورتوں اور دیویوں نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ کر دیا ہے جس نے فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِي ۚ وَمَنْ عَصَانِي میری پیروی کی وہ تو میرا ہے اور جس نے میری فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ نافرمانی کی تو تو بے شک بڑا عیبوں کا ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ۳۸۔اے ہمارے رب ! میں نے آباد کیا ہے ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا اپنی اولاد سے بیابان بے کھیتی باڑی کا تیرے تعظیم والے گھر کے پاس یعنی ( کعبہ کے پاس) لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْبِدَةً مِنَ اے ہمارے رب ! یہ اس لئے کیا ہے تا کہ یہ نماز (بقیہ حاشیہ ) ہے۔وہاں بھی ضمیر کو اللہ ہی کی طرف پھیرنا چاہئے کیونکہ اللہ ہی نے ان کی ہوا بنا رکھی تھی اور وہی عزت و آبرو کا ان کے محافظ تھا۔آیت نمبر ۳۵۔سَأَلْتُمُوهُ - یعنی حقیقی حاجتوں کے اسباب بڑے سہل اور سستے رکھے ہیں اور جس قدر حاجت کے دور ہوتے جاتے ہیں اسی قدر گرانی ہوتی ہے۔جیسے آب و ہوا روشنی وغیرہ چیزیں مدار زندگی بہت سستی ہیں اور جواہرات الماس وغیرہ بہت گراں ہیں کیونکہ ضروریات سے نہیں بلکہ تکلفات اور زینتوں سے ہیں۔آیت نمبر ۳۶۔ابرهيم - ابراہیم علیہ السلام ایک عظیم الشان انسان جس کے فخر کے لئے یہ کافی ہے کہ سردار دو جہاں سید المرسلین کو اُن سے تشبیہ دے کر فرمایا ہے کہ اِنَّ اَولَى النَّاسِ بِابْرُ هِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهُذَا النَّبِيُّ الخ (ال عمران : ۲۹) اور كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وغیرہ ادعیہ، تمام اہلِ کتاب اور اہلِ اسلام کا مانا ہوا مقدس نبی ہے جو ابو الملۃ کہلاتا ہے۔الْبَلَدَ - مقام غیر ذی زرع حضرت کو البلد نظر آ رہا ہے جو اس کیلئے آئندہ پیشگوئی کا رنگ رکھتا ہے۔