اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 47
سيقول ٢ ۴۷ البقرة ٢ سَيَقُولُ الهَا مِنَ النَّاسِ مَا وَلَهُمْ ۱۳۳ قریب ہے کہ بے وقوف کہیں گے کہ السُّفَهَاءِ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ مسلمانوں کو کس نے پھیر دیا اُس قبلہ کی طرف سے جس کی طرف وہ پہلے تھے۔ان سے کہہ دو الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ کہ مشرق اور مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا ۱۴۴۔اور ایسی باتوں کے سبب سے ہم نے تم کو شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ ایک جماعت اعلیٰ درجہ کی نیکی سکھانے والی بنایا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے گواہ یعنی نمونہ بنو اور عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي رسول تمہارا گواہ یعنی نمونہ ہو ( اور اے پیغمبر) كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ جس قبلہ کی طرف تم تھے اُس کو اس لئے ہم نے بدل دیا کہ ہم دیکھیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِنْ ہے الگ ہو کر اُس سے جو پھر جاتا ہے الٹے ے طعن کفار ہے کہ مسلمانوں کا مرکز تو مکہ تھا وہاں سے کیوں نکلوائے گئے۔جواب دیا مشرق و مغرب عنقریب فتح ہوگا، ترقی کا سامان ہوا ہے۔تمہید۔ہر ایک قوم میں ایک فعل مختص ہوتا ہے جس کے مقابل کوئی گناہ گناہ نہیں معلوم ہوتا ہے جیسے ہندوؤں کے لئے گائے کھانا اور مسلمانوں کے لئے سور۔اسی طرح عرب کعبہ کی تعظیم کے دل دادہ تھے اور تمام گناہ کرتے ، اس کی تعظیم میں فرق کو گوارا نہیں کرتے۔حضور سرور کائنات ﷺ نے ایسی ہی بات یہود میں دیکھی تو تحمیل پیشگوئی کے لئے تحویل قبلہ کی آرزو کی تاکہ مخلصین کا اجتماع و اتحاد ہو جائے مگر رسم و رواج کے پابند چہ مے گوئیاں کر کے تفریق کا راستہ نکالنے لگے اور اس اتحاد و راستی کی روح سے قالب بے جان کی طرح الگ گر پڑے یا صراف بصیر کے سامنے کھوئے نقد ملانے والے ٹھہر نہیں سکتے۔اسی طرح تحویل قبلہ کی مصلحت تھی کیونکہ اہل مذاہب دو قتم کے ہوتے ہیں (۱) ایک تو اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے والے (۲) غیر مذہب کی عیب چینی کرنے والے۔عیب چینی کرنے والے جھوٹے ہیں اور بیت اللہ کا ذکر یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۵۴ باب ۶۰۔پیدائش ۱۲ باب آیت ۸ لفظ بیت ایل میں ہے۔