اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 530
و ما ابرئ ۱۳ ۵۳۰ ابراهيم ١٤ يَعْبُدُ ابَاؤُنَا فَأْتُوْنَا بِسُلْطَنٍ مُّبِین تو لاؤ تو کوئی صریح دلیل۔قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرَ ۱۲۔اُن سے اُن کے رسولوں نے کہا ہاں ہم مِثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ تمہاری ہی طرح کے تو آدمی ہیں لیکن اللہ احسان کیا کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر مِنْ عِبَادِهِ وَمَا كَانَ لَنَا اَنْ نَأْتِيَكُمُ چاہتا ہے ( وحی و رسالت کا ) اور ہمارا کام نہیں بِسُلْطنٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ وَعَلَى اللهِ کہ تمہارے پاس کوئی سند پیش کریں مگر اللہ ہی کے حکم سے، اور ایمانداروں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) بھروسہ کریں۔وَمَا لَنَا إِلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللهِ وَقَدْ هَدُنَا ۱۳۔اور ہم کو کیا ہوا کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا أَذَيْتُمُونَا حالانکہ اس نے ہمیں ہدایت دی ہے ہماری راہوں کی۔اور ہم ضرور صبر کریں گے تمہارے ستانے وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ پرا اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئے متوکلوں کو۔وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ ۱۴۔اور حق چھپانے والے کافروں نے کہا اپنے ۱۴۔لَنُخْرِ جَنَّكُمْ مِنْ اَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي رسولوں سے ہم تم کو ضرور ضرور نکال دیں گے اپنے ملک سے یا تم پھر جاؤ ہمارے مذہب میں مِلَّتِنَا فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ تو اللہ نے جوان کا رب ہے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ضرور غارت کر دیں گے بے جا کام کرنے والوں کو۔الظَّلِمِينَ (بقیہ حاشیہ) بِسُلْطن تبِینِ۔منکروں کا یہ ہمیشہ قاعدہ ہے وہ رسولوں کو بھی کہا کرتے ہیں کہ تم میں کمال کیا ہے تمہارے لئے دلیل کیا ہے تم کو کیا فوقیت ہے ہم تم کو ملک سے نکال دیں گے یا قتل کر دیں گے۔ہاں تم ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ تو اچھا ہے چونکہ نبیوں کی تعلیم کے دو حصہ ہوتے ہیں۔(۱) عقائد حقہ (۲) اعمال صالحہ۔جو متبرک تعامل سے واضح ہوتا ہے۔علمی تدبیرات میں مجتہدین کا ظہور ہوتا ہے اور ان کے ساتھ سلطان مبین رہتی ہے اور رسوم والف کے خلاف میں منکرین کا۔پھر وہ مخالفت کرتے ہیں اور ذلیل ہوتے ہیں۔آیت نمبر ۱۴۔لَنهلگن۔راستبازوں کا سچا معیار یہ ہے کہ مقابلہ کے وقت ان کا دشمن ہلاک ہو جاتا ہے اور راستباز یا ان کی جماعت ان کی جگہ پر قائم ہو جاتی ہے۔