اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 525
و ما ابرئ ۱۳ ۵۲۵ الرعد ١٣ وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ ۴۱۔اور ہم تجھ کو اگر دکھائیں کوئی وعدہ جوان سے ہم کرتے ہیں یا وفات دیں تجھ کو بہر حال اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ تیرا کام تو پہنچا دینا ہے اور ہمارے پر حساب وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۔لینا ہے۔أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا ۴۲۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہمارا دین آ رہا ملک میں امرا اور غرباء کو گھٹا تا ہوا۔اور اللہ حکم کرتا ہے مِنْ أَطْرَافِهَا وَاللهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ اور اس کے حکم کو کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں اور وہ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ جلد حساب لینے والا ہے۔ا یعنی مسلمان جلد کامیاب ہو جائیں گے، کفر یہاں سے دور ہو جائے گا۔(بقیہ حاشیہ) کے پاس اصل کتاب یعنی تعزیرات کی کتاب ہے۔اسی کے ضمن میں یہ جو بعض دنیا کی عمر سات ہزار سال بتلاتے ہی یا دو ارب یا اس سے بھی بڑھ کر بتاتے ہیں خدا کی ابدیت اور اقتدار کے سامنے یہ کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی اس لئے قرآن شریف میں کوئی میعاد مقرر نہیں کی گئی۔ہم تو ان قائلین کے ساتھ ہیں جو دعا کرتے ہیں اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنَ الْاشْقِيَاءِ فَامْحُ اِسْمِي مِنَ الْاشْقِيَاءِ وَاكْتُبُنِي فِي السُّعَدَاءِ کیونکہ ارشاد ہے وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِ اللہ اپنے کام پر بھی غالب ہے پھر کیا فکر ہے۔آیت نمبر ۴۱ - بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ الخ - وعده وعید دو علیحدہ علیحدہ باتیں ہیں۔وعید کا خلاف ہوتا ہے اور اس کا کرنے والا کاذب نہیں سمجھا جاتا بلکہ رحیم و کریم مانا جاتا ہے۔عرب کہتا ہے۔إِنِّي إِذَا أَوْعَدْتُهُ أَوْ وَعَدْتُهُ فَمُنْجِزُ وَعْدِئُ وَمُخْلِفُ اِيُعَادِى یعنی ہم وعدہ کرتے ہیں اور پورا کرتے ہیں اور وعید کرتے ہیں تو خلاف کر دیتے ہیں۔انذار کی پیشگوئیاں بعض وقت ٹل جاتی ہیں۔رہا وعدہ وہ اکثر خلاف نہیں ہوتا ہاں مصلحتا یا بترقی یا اعلیٰ کمال حاصل ہونے یا کرانے کے لئے کبھی صورت بدل جاتی ہے یا تنزل یا تبدل اور دیری میں اس کی ترقی ہوتی ہے مثلاً ہم ایک طالب علم سے کہیں تم کامیاب ہو تو ایک روپیہ دیں گے اور کامیابی کے بعد اُسے دس دیں یا بجائے دس کے آئندہ کی تعلیم کا کل خرچ اپنے ذمہ لے لیں یا کسی دوست سے وعدہ کریں کہ ہم تم سے فلاں وقت ملیں گے یا فلاں طبیب بڑا ہی تجربہ کار ہے پھر کسی سخت مجبوری یا مصلحت سے وقت مقررہ پر نہ مل سکیں یا مذکورہ طبیب کے علاج میں شفانہ پائیں وغیرہ امور واقعہ اس کے شاہد ہیں اور یہاں خلاف وعدہ کوئی امر بھی نہیں سمجھا جاتا۔بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ کے معنی اس تشریح سے سمجھ میں آجائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔عَلَيْنَا الْحِسَابُ یعنی پیشگوئی تیرے سامنے ظاہر ہو جیسے واقعہ بدر اطراف کے معنی حاکم محکوم، امراء، غرباء، اغنیاء، فقراء وغیرہ۔