اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 520
وما ابرئ ۱۳ ۵۲۰ الرعد ١٣ سلم عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ ۲۵۔کہیں گے سلام علیکم یعنی تم پر سلامتی ہو اس کے صلہ میں کہ تم نیکی پر جمے رہے اور بدیوں سے بچتے رہے تو انجام کا گھر کیا ہی خوب ملا۔عُقْبَى الدَّارِة وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ ۲۶۔اور جو لوگ اللہ کا اقرار توڑتے ہیں اس کو بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا اَمَرَ اللهُ مضبوط کئے بعد اور ان سے جدائی اختیار کرتے (بقیہ حاشیہ دانہ اور روزی پر ہے جس طرح میسر ہو جائے آخر اس جنت عدن سے جس کا نام اطمینان نفس اور آرام گاهِ نَفْسٍ مُطْمَئِنَّه اور ایمان ویقین اور رضائے الہی ہے ہمیشہ کے لئے نکالا جاتا ہے اور ایسا نگا مفلس، قلاش اور عیب دار ہوتا ہے کہ ہر ایک شریف آدمی اس کو دیکھ کر شرم و حیا کے مارے منہ پھیر لیتا ہے اور خیال بد سے باز نہیں آتا اور آنکھیں بند کر لیتا ہے اور اپنے باپ پر یعنی حضرت آدم علیہ السلام پر دھوکا کھانے کا الزام لگاتا ہے جو جائے ادب ہے حالانکہ خود ایک دانہ کے لئے شیطان کے دام میں گرفتار ہے إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ اور جنت عدن کی فکر میں ہمیشہ رہتا ہے بعد تحقیقات کامل کے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ شہر بابل کے قریب جنت عدن تھی حالانکہ عراق ایک علاقہ محدود ہے اگر حضرت آدم اور ان کی اولا دسب وہاں رہ پڑتی تب بھی وہاں جگہ نہ رہتی اور عراق کا ملک تو اب بھی موجود ہے اور وہاں کے رہنے والے بھی جو مذہبی تحقیق کے موافق عدن کی جنت کے رہنے والے ہیں۔حضرت آدم کی جنت کے لئے رور ہے ہیں نادان انسان اتنا نہیں جانتا کہ عدن کے معنی تو ہمیشہ رہنے کے ہیں اور وہ انعامات جو ہمیشہ رہیں۔پس وہ جنت عدن جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے کبھی دنیا میں نہ تھی اور اب بھی موجود ہے نہ تھی کا تو یہ مطلب ہے کہ کسی جگہ کا نام نہ تھا اور ہے کا مطلب یہ ہے کہ متقی انبیاء اولیاء نیک لوگ ہمیشہ جنتوں میں رہتے ہیں جو ان سے کبھی نہیں چھینی جائے گی۔رہے آخرت کے جنت صلى الله وانعامات اس کے لئے حضور سرور کائنات علیہ فرماتے ہیں کہ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ نہ کی آنکھ نے دیکھیں نہ کان نے سنیں۔مبار کی ہو اس کے لئے جو قرآن مجید کی بتائی ہوئی جنت کی تلاش کرے۔توریت کی بتائی ہوئی جنتوں کا خیال چھوڑے جنت بھی ایک رضائے الہی کا نام ہے۔( حاشیہ جدیدہ)۔آیت نمبر ۲۵ - فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ۔یہاں تک ایماندار عاقلوں کا ذکر ہوا۔اب منافقوں اور فاسقوں کا ذکر ہوتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کا اقرار توڑتے ہیں۔اس کو مضبوط کئے بعد اور ان سے جدائی اختیار کرتے ہیں جن سے ملنا اللہ پسند فرماتا ہے اور ملک میں شرارت پھیلاتے ہیں یہ ہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے در بدر کر دیا اور ان کے لئے بُرا گھر ہے۔