اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 519 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 519

وما ابرئ ۱۳ ۵۱۹ الرعد ١٣ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَانْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنُهُمْ خوشنودی کے لئے اور نماز کو ٹھیک درست رکھتے سِرًّا وَ عَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ ہیں اور ہمارے دئے ہوئے میں سے کچھ دیتے رہتے ہیں چھپا چھپا کرلے اور دکھا دکھا کرتے اور السَّيِّئَةَ أُولَكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ بھلائیاں کرنے میں لگے ہی رہتے ہیں برائیوں کو ہٹانے کے لئے یہ ہی لوگ ہیں جن کے لئے انجام کا گھر ثابت ہو گیا ہے۔جَثْتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ ۲۴۔وہ ہمیشگی کے باغ میں ہیں جس میں وہ جائیں گے سدا ر ہیں گے اس میں اور جو نیکوکار مِنْ آبَابِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ ہوں گے ان کے باپ دادا اور دوست یا بیبیاں وَالْمُلَكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ اور اولاد بھی تے۔اور فرشتے ہر ایک دروازے سے ان پر داخل ہوکر لے ریا سے بچنے کے لئے۔یہ سب ان کے ساتھ ہوں گے۔ترغیب و تحریص کے لئے۔آیت نمبر ۲۴ - جَنتُ عَدْنٍ - جنت عدن کی یا مدت ہائے دراز سے پیروان مذہب کے لئے باعث حسرت ہو رہی ہے اور اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو دل ہی دل میں کچھ کہتے ہیں کہ انہوں نے شیطان کا کہا مان کر دانے کے لالچ سے اپنی عزیز اولا دکو ہمیشہ کے لئے ورثہ پدری سے محروم کر دیا اور باوا حضرت تو فوت ہو گئے۔مگر وہ اُن کا اور ہمارا پرانا دشمن شیطان جس نے انہیں ورغلایا تھا اب تک زندہ ہے بہت سے تو اس کے مل جانے کی فکر میں ہیں کہ خوب خبر لیں اور بہت سے اس کے پھندے میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ غلام بے دام بنے ہوئے ہیں جس پر شیطان بھی ہنستا ہوگا ایسے ہی موقعہ پر کسی نے کہا ہے کہ لڑکا بغل میں ڈھنڈورا شہر میں کسی نے خواب میں شیطان کو دیکھ کر اس کی داڑھی پکڑ کر انتقاماً ایک تان کر طمانچہ مارا تھا اور ایک مارنا ہی چاہتا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی اور معلوم ہوا کہ اپنا ہی منہ اور داڑھی تھی اور طمانچہ بھی بر کلہ خود ہے اور مار کے صدمے سے آنکھ کھل گئی ہے۔معلوم یہ ہوا بہت بڑا شیطان تو اس کا نفس ہی ہے أَغدَى عَدُوّكَ نَفْسُكَ الَّتِي بَيْنَ جَنْبَيْكَ * کیونکہ ابلیس کا تسلط کسی انسان پر نہیں ہوتا سوائے اس شخص کے جو ابلیس کو اپنے نفس پر قابو دے دے اور اس کا کہنا ماننے لگے تو باعث فساد و بانی فساد نفس امارہ ٹھہرا اور وہی قابل ملامت ہے اب بھی انسان یعنی لالچی اور حرصی جنت اور آرام گاہ سے صرف دانہ کی خاطر نکالا جاتا ہے۔احمق انسان خیال کرتا ہے کہ روزی حلال و حرام کا خیال کر کے اور سچ اور جھوٹ کا تمیز رکھ کر الگ الگ کماؤں گا اور راست بازی اور تقویٰ اختیار کروں گا تو فاقوں مر جاؤں گا۔اور اس کا نفس اسے ناصح امین بن کر دھوکہ دیتا ہے کہ زیست کا مدار اسی ☆ تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا دل ہے جو تیرے پہلوؤں کے درمیان ہے۔(ناشر)