اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 517
وما ابرئ ١٣ ۵۱۷ الرعد ١٣ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ پیدائش ؟ تم کہ دو (نہیں) سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہی اکیلا بڑا غالب ہے۔وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ ۱۸۔اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر بہہ نکلے بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا زَابِيًّا وَما نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق پھر ریلے نے جھاگ اٹھا لیا جو اوپر آ گیا تھا۔اور وہ جو تپاتے یا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ گلاتے ہیں آگ میں زیور یا دوسرے اسباب مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهُ كَذَلِكَ يَضْرِبُ الله کے لئے اس کا سکے بھی جھاگ ایسا ہی ہے۔اسی الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ طرح اللہ بیان کرتا ہے الحق اور الباطل کا حال پس وہ جھاگ تو یوں ہی بے کار چلا جاتا ہے پر جُفَاء وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي لوگوں کو نفع دینے والا وہ زمین میں ٹھہرا رہتا الْأَرْضِ كَذَلِكَ يَضْرِبُ الله ہے۔اسی طرح اللہ بیان فرماتا ہے اعلی درجہ کی باتیں۔الْأَمْثَالَة جھاگ سے جھوٹے مدعی بھی مراد ہیں۔ے شریعت حقہ والہام صادقہ بھی مراد ہے۔سے یعنی جھوٹا ، مدعی الباطل غارت ہو جاتا ہے۔کے پانی ودھات۔یعنی الحق سچا مامور۔آیت نمبر ۱۷۔خالِق۔اس سے صاف ثابت ہے کہ عیسی علیہ السلام کی نسبت جو تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ کے الفاظ آئے ہیں اس سے اس قسم کی خلقت مراد نہیں بلکہ حد نبوت تک محدود ہے ورنہ چرند و پرند کا پیدا کرنا مشابہ خالقیت ہے جس سے اس آیت شریف میں انکار کیا گیا ہے اور خَلَقُوا كَخَلْقِهِ سے اس کا رو فرمایا گیا ہے کیونکہ اہل سنت و جماعت کے اعتقاد کے مطابق سوائے خدا کے کوئی خالق نہیں اور اس نے فرمایا بھی هَلْ مِنْ خَالِقِ غَيْرُ اللهِ (فاطر: (۴) اور هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (الانعام: ۱۰۳) - اللهُ خَالِقَ كُلِّ شَيْءٍ (الزمر: ٢٣) ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (المؤمن : ٦٣ ) - آیت نمبر ۱۸ - زَبَدًا رَّابِيًا۔جھاگ سے وہ شبہات و اعتراضات بھی مراد ہیں جو لوگ حق کو چھپانے کے لئے کیا کرتے ہیں اور احْتَمَلَ کا لفظ ان کے احتمالات کی دلیل ہے جیسے موسی“ کے عصا پر فرعون کی طرف سے احتمال سحر کا بیان کیا گیا۔جفاء۔یعنی جھوٹے معترضوں کے ارادات اکارت چلے جاتے ہیں اور خدا کا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے۔