اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 516 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 516

وما ابرئ ١٣ ۵۱۶ الرعد ١٣ ج بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللهِ جن پر وہ چاہتا ہے۔اور یہ منکر جھگڑتے ہی رہتے ہیں اللہ کے مقدمہ میں حالانکہ وہ سخت طاقت وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ اور عذاب دینے والا ہے۔لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ ۱۵۔اسی کو پکارنا برحق ہے اور اس کے سوائے جن کو پکارتے ہیں تو وہ انہیں کچھ بھی جواب نہیں دُونِهِ لَا يَسْتَجِيْبُونَ لَهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا دیتے مگر جیسے اپنے چلو پھیلا رہا ہے (پیاسا ) پانی كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا کی طرف کہ وہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے هُوَ بِبَالِغِهِ وَمَا دُعَاءِ الْكَفِرِينَ إِلَّا حالانکہ وہ کبھی بھی پہنچنے والا نہیں اور منکروں کی دعا تو گمراہی میں ہی ہوا کرتی ہے۔في صليه وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ١٦۔اور اللہ ہی کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمانوں اور اور طَوْعًا وَ كَرْهًا وَ ظِلُهُمْ بِالْغُدُةِ زمین میں ہے خوشی اور نا خوشی سے اور ان کے سائے صبح اور شام سجدے میں لگے ہوئے ہیں۔السجدة - وَالْأَصَالِ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ قُلِ ۱۷۔تو پوچھ کہ آسمان اور زمین کا رب کون ہے؟ تو ہی جواب دے کہ اللہ۔کہہ پھر یہ کیا تم نے اللهُ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِةٍ أَوْلِيَاءَ لَا اللہ کے سوا بنارکھے ہیں دلی دوست جو اپنے يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا قُلْ نفس کے نفع اور ضرر کے بھی مالک نہیں؟ کہ دو کیا هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ برابر ہوسکتا ہے اندھا اور آنکھوں والا، یا برابر سمجھتے ہواند ھیرا اور اجالا یا انہوں نے بنا رکھے ہیں اللہ تَسْتَوِى الظُّلمتُ وَالنُّورُةَ أَمْ جَعَلُوا کے برابر والے ایسے جنہوں نے کچھ پیدا کیا ہے لِلَّهِ شُرَكَاء خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الله کے جیسا کہ مشتبہ ہوگئی ہے ان پر دونوں کی لے اس سے عذاب کی پیش گوئیاں بھی مراد ہیں۔آیت نمبر ۱۵- بِبَالِغام۔پہلے بے اختیار چیزیں کسی کی کیا مددکریں گی یا پانی سے مراد شریعت آسمانی ہے جس کا صرف منہ سے بلا عمل اقر ار اس مضمون کا حسب حال ہے۔