اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 511 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 511

و ما ابرئ ۱۳ ۵۱۱ یوسف ١٢ لأولِي الْأَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى تنبیہ ہے عقل والوں کے لئے۔یہ قرآن کچھ وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ بنائی ہوئی بات تو ہے ہی نہیں۔ہاں مصدق ہے ان کتابوں کا جو اس کے سامنے ہیں اور ہر ایک چیز کی تفصیل ہے اور ہدایت اور رحمت ہے ایماندار قوم کے لئے۔(بقیه حاشیه ) أَنَا خَيْرُ الْمُنْزِنِينَ اور فَلَا كَيْلَ لَكُمْ (۳۵) حسنِ تدبیر قحط سالی کا انتظام (۳۶) حالتِ غضب میں درگزر، غصہ پی جانا۔(۳۷) با وجود حصول دنیا اللہ سے سچا تعلق حرص کو غالب نہ ہونے دیا۔وصالِ الہی کے طالب رہے دعا کو نہ چھوڑا۔قرآن مجید پڑھنے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ انسان سب باتوں کو اپنے پر وارد کر لے کیونکہ یہ عالم صغیر ہے سب نمو نے اس میں موجود ہیں۔عارف اکمل نے بتایا ہے انسان کا دل یوسف ہے اور روح باپ نفس و بدن بھائی وہ دونوں میں صلح کو نا پسند کرتے ہیں اور یوسف کو گمراہی کے گڑھے میں ڈال ہی دیتے ہیں۔اللہ کی توفیق اور باپ کی دعائیں شامل حال ہو جائیں تو مصریوں کا وہ عزیز بن جاتا ہے اور بھائیوں کو پہچان کر ان کے افلاس کا انتظام کرتا ہے پھر جب اس دل سے قلب سلیم مل جاتا ہے تو نَفْسِ مُطْمَئِنَّه حاصل ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نَفْسِ مُطْمَئِنَّہ ماں اور روح لطیف باپ اور قلب شہید یوسف عرش شاہی قرب الہی تک پہنچے تو سب قوی یعنی بھائی حقیقی سجدہ میں گرے یعنی فرمانبردار الہی ہوں گے۔ان کا ماسوا اللہ جو بھائیوں کو نیکی کے قحط سالی میں خراب کرتا ہے جب وہ تھوڑی سی پونجی ارادت کی یوسف دل کے پاس لاتے ہیں تو صالحانہ طریقت کا انبار پاتے ہیں۔روح کی آنکھوں کا نور تقویٰ ہے جب دل اس کی نگرانی نہ کرے تو وہ جاتا رہتا ہے۔وصال فَنَا فِی اللہ کا مقام ہے جہاں بَقَا باللہ حاصل ہوتی ہے جس کے حصول کے لئے دعا أَنْتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَالْحِقْنِي بِالصّلِحِينَ۔اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمُ کی ضرورت ہے۔