اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 510
و ما ابرئ ۱۳ ۵۱۰ یوسف ۱۲ حَتَّى إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ۔جب ناامید ہو جائیں رسول اور کافر قوم صاف یقین کرلیں کہ انبیاء نے ان کو جھوٹ ہی قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُحِيَ مَنْ سنایا ہے تو ہماری مدد آ پہنچی ان کے لئے پھر بچایا نَّشَاءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ گیا یعنی ہم نے بچا لیا جس کو چاہا تے اور ہمارا عذاب ٹلتا نہیں قطع تعلق کرنے والی قوم سے۔الْمُجْرِمِينَ لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ ۱۱۲۔بے شک ان کے حالوں میں عبرت اور ے یعنی انبیاء اور مومنین کو۔لے اپنی قوم کے ایمان سے۔آیت نمبر ۱۱۲- عبر۔در حقیقت اس میں بہت سی نصیحتیں اور پیشگوئیاں ہیں عبرت پکڑنے والوں کے لئے مثلاً علم خواب صحیح ہے (۲) دشمنوں سے بعض خواب چھپانا (۳) حسد آگ ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔(۴) جھوٹ بولنے سے اعتبار جاتا رہتا ہے اور کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں آخر ندامت ہوتی ہے (۵) مستقل نبیوں کو علم غیب نہیں ہوتا (۶) دلسوز و مضطر بانہ دعا قبول ہو جاتی ہے ( ۷ ) نامحرم کو گھر میں آنے دینے سے ضرور خرابی ہوتی ہے (۸) متبنا بنانا نا پسند امر ہے (۹) نیکیوں کو اللہ بدیوں سے بچاتا ہے (۱۰) مخلص و محسن کو اللہ تہمتوں سے بری کر دیتا ہے۔لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ الخ (الفتح : ۳) (۱۱) متقی اور صادق پر حملہ پر حملہ ہوتا ہے یہاں تک کہ مخالف سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اس کو پیس ڈالا پھر وہ قدرت اللہ سے غالب ومنصور ہو جاتا ہے۔(۱۲) فیض رساں سکھ میں رہتا ہے اس کی شان بلند ہوتی ہے (۱۳) خود عمل کرو دوسروں کو ہمیشہ نصیحت کرتے رہو یہ سب سے بڑی خیرات ہے (۱۴) کا فر کا خواب بھی سچا ہوتا ہے (۱۵) خواب کی تعبیر کامل بتاتے ہیں (۱۶) زبانی جمع خرچ کچھ چیز نہیں عمل ہونا چاہیئے (۱۷) حق کی ہمیشہ فتح ہے (۱۸) کافر کی نوکری کرنا جائز ہے (۱۹) بھائی بندوں کے ساتھ یوسفی اخلاق برتاؤ کرو (۲۰) بھائیوں کے بُرے اخلاق مت سیکھو۔(۲۱) قصوروں کا اقرار کرو اللہ کے حضور میں جھک جاؤ (۲۲) صبر کا اجر ضرور ملتا ہے گاؤں والوں کو بڑا سے بڑا عہدہ اور حکومت مل سکتی ہے (۲۳) اللہ کی باتیں ہو کر رہتی ہیں اور درمیانی حالات سے ڈانواں ڈول نہ بنو (۲۴) اللہ کے فضل سے سب کام بنتے ہیں (۲۵) حضرت یوسف کے طرز عمل سے ان کی اعلیٰ قابلیت کا اظہار اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَہ ہو رہا ہے (۲۶) غیر معمولی عفت کا ثبوت (۲۷) حافظہ کی قوت بھائیوں کو دیکھتے ہی پہچان لیا (۲۸) قوت بیانی سے حاکم پر اثر ڈال دیا (۲۹) با وجود قدرت کے عفو (۳۰) کنبے کا اکرام (۳۱) اپنے پر مِنْ عِندِ الله وثوق (۳۲) بچپن ہی میں جودت دماغ کس اعلیٰ درجہ کا خواب دیکھا (۳۳) ہمراہیوں پر شفقت يُصَاحِبَي الشجن فرماتے ہیں (۳۴) نرمی وگرمی