اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 506
و ما ابرئ ۱۳ لَكُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّحِمِينَ يوسف ١٢ الزام نہیں۔اللہ تمہاری مغفرت کرے وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔اِذْهَبُوا بِقَمِيصِيْ هَذَا فَالْقَوْهُ عَلَى وَجْهِ ۹۴ - یہ میرا کر نہ لے جاؤ اس کو میرے باپ أَبِيْ يَأْتِ بَصِيرًا ۚ وَأتُونِي بِأَهْلِكُمْ کے سامنے رکھ دینا وہ پہچان لیں گے اور نے آؤ میرے پاس تم اپنے تمام گھر والوں کو۔أَجْمَعِينَ وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوهُمْ إِنِّی ۹۵۔اور جب شہر سے جُدا ہوا قافلہ (یعنی لَا جِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَنْدُونِ مصر سے) کہا ان کے باپ یعقوب نے ( کنعان میں ) میں پاتا ہوں یوسف کی حکومت کی خبر کہیں تم مجھ کو سترہ بہترہ نہ کہو (یعنی بڑھا بہکا ہوا ) (بقیه حاشیه ) (۸) بنو نوفل (۹) بنو عبدالدار (۱۰) بنو ہاشم۔چونکہ یوسف کے گیارہ بھائیوں میں سے بن یامین تو حمایتی ہیں اور روبن سفارشی۔باقی رہے نو بھائی۔پس اسی طرح تمثیلی طور پر آنحضرت کے مقابل تسعة رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ میں ظاہر فرمایا ہے وہ نو اشخاص آنحضرت کے سخت مخالف تھے یعنی (۱) ابو جہل (۲) ابولہب (۳) عتبه (۴) شیبه (۵) ابی بن خلف (۶) ربیعہ (۷) ولید (۸) زمعہ (۹) اُمیہ۔بھائیوں نے یوسف کو کہیں چھوڑ دیا تھا آپ کو بھی قوم کے سبب غار میں رہنا پڑا۔آنحضرت کو مثل یوسف کے وطن سے الگ ہو کر امارت ملی۔مگے والے مثل یوسف کے ایام قحط میں آنحضرت کے محتاج ہوئے۔فتح مکہ پر مثل یوسف کے آپ نے فرمایا کہ لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم - اس تمثیلی پیشگوئی پر خدا نے خود ارشادفرمائے ہیں جیسا كه في قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ اور مِنْ أَنْبَاءِ الْغَیب وغیرہ آیات یوسف کی نسبت فَيَكِيدُو لَكَ كَيْدًا اور آنحضرت کی نسبت يَكِيدُونَ كَيْدًا آیا ہے یوسف کی نسبت اقتلُوا اور آنحضرت کی نسبت أَوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ آیا ہے۔یعقوب نے فرمایا اُدْخُلُوْا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللهُ امنین اور آنحضرت نے دخول مکہ کے وقت فرمایا إِنْشَاءَ اللَّهُ امِنِینَ۔آیت نمبر ۹۴ - وَأتُونِي۔چنانچہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں ، پوتوں اور بیبیوں کے ساتھ جن کی تعداد ستر بیان کی گئی ہے فرعون کی بھیجی ہوئی سواریوں پر بیٹھ کر روانہ ہوئے۔سجدہ سنت بھی ہے کہ کسی شہر میں داخل ہوں تو دوگانہ شکر ادا کیا جائے۔آیت نمبر ۹۵ - تُفَنِدُونِ۔تَفْنِید ، ملامت کرنا۔احمق بنانا۔خطا کار و گنہگار بنانا۔