اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 504
و ما ابرئ ۱۳ ۵۰۴ یوسف ۱۲ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا ۸۔(بیٹوں نے جب ایسا جا کر بیان کیا ) تو باپ نے کہا ہاں! بنالی ہے تمہارے نفسوں نے فَصَبْرٌ جَمِيلٌ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَنِي ایک بات تو خیر صبر ہی بہتر ہے۔امید ہے کہ اللہ بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ لے آوے گا میرے پاس ان سب کو۔بے شک اللہ ہی بڑا جاننے والا ہے کچی حقیقتوں کا اور بڑا حکمت والا ہے۔وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَاسَفَى عَلَى ۸۵۔اور اُن سے منہ پھیر لیا اور کہا اے افسوس يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَهُ مِنَ الْحُزْنِ یوسف پر اور اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور آنسو بہہ نکلے رنج کے مارے اور وہ دل گھٹا ہوا تھا۔فَهُوَ كَظِيمُ قَالُوا تَاللهِ تَفْتَوا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتَّى ٨٦ بیٹوں نے کہا قسم اللہ کی! آپ تو ہمیشہ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَلِكِينَ یوسف کی یاد ہی میں لگے رہیں گے یہاں تک کہ غم کھا کھا کے بیمار یا ہلاک ہو جائیں گے۔قَالَ إِنَّمَا اشْكُوابَتِي وَحُزْنِي إِلَى اللهِ ۸۷۔باپ نے کہا میں فریاد کرتا ہوں اپنی بے قراری اور رنج کی اللہ سے میں وہ باتیں وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ بہت جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے۔يبَنِى اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ ۸۸۔اے میرے بیٹو! جاؤ اور ڈھونڈو یوسف کو وَآخِيْهِ وَلَا تَايْنَسُوا مِنْ زَوْحِ الله اور اس کے بھائی کو اور ناامید نہ ہو اللہ کی بہاروں سے کیونکہ مومن نا امید نہیں ہوتا اللہ کی إِنَّهُ لَا يَا يُسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا آیت نمبر ۸۴ - سَوَّلَتْ لَكُمْ - (۱) خود بتا کر پچھنے (۲) با مید غلہ نزول مصیبت ہوا (۳) تمہاری غلط نہی ہے کہ اس کو چور سمجھا۔عَسَى الله۔حالات انبیا اور عوام الناس میں فرق۔مصیبت پڑے تو تو کل اور امید رحمت الہی سے زیادہ ہوتی ہے برخلاف عوام کے کہ اس میں گھبراہٹ بڑھتی ہے اور صبر جاتا رہتا ہے۔اَنْ يَأْتِيَنِي۔یہ الفاظ چاہتے ہیں کہ کنعان میں سب جمع ہوں حالانکہ مصر میں ملاقات ہونا مراد ہے۔