اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 500
وما ابرئ ۱۳ ۵۰۰ یوسف ۱۲ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُوا يَا بَانَا مَا نَبَغِی اپنی پونچھی پائی کہ لوٹا دی گئی ہے ان ہی کی طرف۔کہنے لگے اے ہمارے باپ ! ہمیں اور کیا چاہئے لے هذه بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۚ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا دیکھئے یہ ہماری پونجی لوٹا دی گئی ہے ہماری وَغَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرِ ذلِكَ طرف اور ہم گھر والوں کے لئے (پھر) غلہ لائیں گے اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت بھی كَيْل يَسِيرُ کریں گے اور ایک اونٹ کی بھرتی بھی زیادہ لیں گے یہ ایک اونٹ کا بوجھ کیا کم ہے۔قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ -۶۷ - یعقوب نے کہا کہ میں تو اس کو کبھی نہ مَوْثِقَا مِنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَنِيْ بِهِ إِلَّا أَنْ يُحَاطَ ۚ بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم مجھ کو پکا قول دو اللہ کا کہ تم ضرور لے آؤ گے اس کو بِكُمْ فَلَمَّا أَتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللهُ میرے پاس مگر یہ کہ تم خود ہی گھر جاؤ ( تو مجبوری ہے) تو جب انہوں نے اپنا پکا قول دیا اس کو عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ باپ نے کہا یہ جو بات چیت ہم کر رہے ہیں اس کا اللہ ذمہ دار ہے۔وَقَالَ يُبَنِي لَا تَدْخُلُوا مِنْ بَابِ وَاحِدٍ ۲۸۔اور کہا اے میرے بیٹو! داخل نہ ہونا ایک ہی دروازے سے اور علیحدہ علیحدہ دروازوں وادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرَّقَةٍ وَمَا سے داخل ہونا اور میں تم کو اللہ سے بچا نہیں سکتا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللهِ مِنْ شَيْءٍ اِن کچھ بھی، اللہ ہی کا حکم ہے جو کچھ ہے۔میں نے الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ تو اللہ ہی پر بھروسہ کر لیا ہے اور سب بھروسہ کرنے لے ہم وہی پہلی درخواست پھر چاہتے ہیں۔آیت نمبر ۶۶ - يستر۔یعنی اس قحط سالی میں بڑی چیز ہے یا بادشاہ مصر کے پاس کچھ بڑی بات نہیں۔آیت نمبر ۶۸۔مُتَفَرِّقَةٍ۔اس میں کئی احتمال تھے کوئی جاسوس نہ سمجھیں یا سب کو ایک سمجھ کے ایک ہی غلہ دیں ڈا کہ والے کے یار نہ سمجھے جائیں وغیرہ وغیرہ انبیاء۔اور نظر نہ لگے یا یہ کہ دس مختلف بازاروں سے گزرتے ہوئے یوسف کا پتہ لیتے جائیں یا یہ کہ یوسف کے مصر میں ہونے کا یعقوب کو یقین تھا۔بن یامین کو علیحدہ ملانا چاہتے تھے وغیرہ وغیرہ۔د اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلہ۔یعنی وہ جو چاہے گا سو کرے گا میری دور اندیشیوں سے کیا ہوتا ہے تفویض الہی پر عمل۔