اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 498
و ما ابرئ ۱۳ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ ۴۹۸ یوسف ١٢ کا محافظ بنا دیں کیوں کہ میں بڑی حفاظت کرنے والا بڑا جاننے والا ہوں۔وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ ۵۷۔اور ہم نے اسی طرح یوسف کو جگہ دی ملک مصر میں کہ اس میں رہے جہاں چاہیے۔يَتَبَوَّأْ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا ہم پہنچاتے ہیں اپنی مہربانی سے جسے چاہیں مَنْ نَّشَاءُ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (ترقی اور کمال پر ) اور ہم ضائع نہیں کرتے بدلہ محسنوں کا۔وَلَاجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا ۵۸۔اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بہتر ہے ایمانداروں کے لئے وہ جو اللہ کو سپر بناتے ہیں وَكَانُوا يَتَّقُونَ اور اس کا خوف رکھتے ہیں۔وَجَاءَ اِخْوَةٌ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ ۵۹۔اور یوسف کے بھائی آئے اور اس کے سامنے پیش ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ اس کو نہیں پہچانتے تھے۔وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُونِي ۲۰۔اور جب ان کے لئے درست کر دیا ان کا سامان کہا لے آنا میرے پاس اپنے اُس بھائی (بقیہ حاشیہ) اختیار کیا جس سے ادنیٰ سے اعلیٰ تک دست نگر بھی رہے اور اپنا حفیظ و علیم ہونا بھی ظاہر ہو۔آیت نمبر ۵۷ - كَذلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ - ابتداء میں حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ بتایا گیا کہ تجھے برگزیدہ کریں گے اور تم پر نعمت پوری کریں گے ظاہری سامانوں کا یہ حال کہ بھائیوں کو معین و باز و سمجھا جاتا ہے ان بازوؤں نے یوسف کو قَعْرِ چاہ میں پھینکا پھر جنہوں نے حضرت یوسف کو وہاں سے نکالا انہوں نے اس سے بدتر کنوئیں میں ڈالا کیونکہ غلام بنا دیا جو کہ مرتبہ انسانی سے انسان کی حریت کو مقام اہلی جانوروں تک پہنچا دیا پھر خریداروں نے یہاں تک یوسف سے کیا کہ اس کو حبس دوام میں ڈال دیا جہاں یوسف کا کوئی غمگسار اور یار اپیل کرانے والا بھی نہ تھا۔یوسف نے ایک تدبیر کی کہ ساقی شاہ کو قابو کیا لیکن نسیان نے اس کو بھی کہنا بھلا دیا۔غرض ہر ایک طرف سے یوسف کو مصائب نے آگھیرا اور تکالیف کا آماج گاہ بنایا پھر وہ خدا جو غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ ہے اُس نے یوسف کو اس قَعْرِ عَمیق سے نکال کر سریر اوج بلندی پر جگہ دی۔بندی خانہ میں رکھنے والے اور غلام بنانے والے کنوئیں میں ڈالنے والے سب اُس کے دست نگر ہوئے۔