اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 497
و ما ابرئ ۱۳ ۴۹۷ يوسف ۱۲ عَلَيْهِ مِنْ سُوءِ قَالَتِ امْرَاتُ الْعَزِيزِ ہم نے تو اُس میں کچھ برائی پائی نہیں اور عزیز کی عورت بول اٹھی اب تو حق بات ظاہر ہو ہی الن حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ چکی ہاں میں نے ہی اس کو پھسلایا تھا صحبت سے نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصُّدِقِينَ رکنے سے اور کچھ شک نہیں کہ وہ بڑے بچوں میں سے ہے۔ذلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ ۵۳۔(یوسف فرماتے ہیں کہ) یہ تحقیق میں نے اللهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَاسِنِينَ اسی واسطے کرائی تا کہ جان لے وہ شخص (جس نے مجھے اپنے گھر میں رکھا تھا) کہ میں نے ہرگز خیانت نہیں کی اُس سے چھپ کر اور بے شک اللہ کامیاب نہیں کرتا خیانت کرنے والوں کی تدبیر کو۔وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ ۵۴۔میں پاک نہیں کہتا اپنے کو کیونکہ نفس تو حکم لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي کرتا ہی رہتا ہے بدی کا مگر جس پر رحم فرمائے میرا رب۔کچھ شک نہیں کہ میرا رب بڑا عیبوں کا إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ ڈھانپنے والا محنت کا بدلہ دینے والا ہے۔وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِ اَسْتَخْلِصُهُ ۵۵۔اور بادشاہ نے کہا یوسف کو میرے پاس لاؤ کہ میں اس کو اپنے ہی لئے خاص کرلوں (یوسف لِنَفْسِى فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينُ آمِينٌ آئے) جب بادشاہ نے اُن سے بات چیت کی یوسف کو کہا کچھ شک نہیں کہ آج تم ہمارے پاس معتبر جگہ پا کر امانت دار بنے۔قَالَ اجْعَلْنِي عَلى خَزَايِنِ الْأَرْضِ ۵۶ یوسف نے کہا کہ آپ مجھے ملک کے خزانہ آیت نمبر ۵۴ - وَمَا اُبَرِى نَفْسِی ممکن ہے کہ یہ عزیز کی عورت کا قول ہو کیونکہ یوسف تو ابھی آئے نہیں جیسا کہ آگے آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے کہا اس کو میرے پاس لاؤ۔بعض فضلاء نے کہا یہ بقیہ ہے یوسف کے قول ارْجِعُ إِلى رَبِّكَ کا اور یوسف کے آنے کی کچھ ضرورت نہیں کیونکہ خطاب بادشاہ سے نہیں۔آیت نمبر ۵۶ - قَالَ اجْعَلْنِى عَلَى خَزَايِنِ الْأَرْضِ - بادشاہ کی صحبت پسند نہیں کی الگ رہنا بھی منظور نہیں ( ہدایت و تبلیغ عام کا موقع پانے کے لئے درخواست کرتے ہیں ) یعنی یوسف علیہ السلام نے وہ عہدہ