اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 496
وما من دابة ١٢ ۴۹۶ یوسف ١٢ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ پہنے میں لوگ پانی پائیں گے اور اس میں رس نچوڑ میں گے اور شرا ہیں بنائیں گے۔وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَهُ ۵۱ - (یہ تعبیر ساقی نے بادشاہ کو سنائی ) اور بادشاہ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلى رَبِّكَ فَشَلُهُ مَا نے کہا اس کو لاؤ میرے پاس (یعنی یوسف ) کو جب یوسف کے پاس قاصد آیا تو یوسف نے کہا بَالُ النِّسْوَةِ الَّتِي قَطَعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ لٹ جا تیرے بادشاہ کے پاس اور اس سے رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ پوچھ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنہوں نے اپنے۔ہاتھ کاٹ لئے تھے کچھ شک نہیں کہ میرا رب ہی ان کی تدبیر سے بخوبی واقف ہے۔قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْرَاوَدُتُ يُوْسُفَ ۵۲۔بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا تمہاری حقیقت عَنْ نَّفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا حال کیا ہے جب تم نے پھسلایا تھا یوسف کو اس کے جی سے۔انہوں نے جواب دیا حَاشَ لِلَّهِ ط (بقیہ حاشیہ) يَعْصِرُونَ۔یعنی قحط سالی دور ہوگی سما اچھا ہو گا۔یہ تعبیر ساقی نے بادشاہ کو سنائی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر و فاسق کے بھی بعض خواب صحیح نکلتے ہیں اور یہ امیر لوگوں پر حجت قائم کرنے کے لئے ہے تا کہ سلسلہ رؤیا ، وحی، الہام کے منکر نہ ہو جائیں۔کشف والہام گویا خواب کی دوسری منزل ہے جس میں غنودگی اور ر بودگی ہوتی ہے۔بے اختیار ایک وقت میں صاف وشفاف طور پر ایک صحیح واقعہ یا کوئی امر غیبی بتایا جاتا ہے اور با شوکت وشان جلالی ہوتا ہے اور دل میں فولاد کی میخ کی طرح جم جاتا ہے اور اطمینان قلبی اس سے ہو جاتا ہے۔بعض لوگ صحابی کے قول سے ثابت کرتے ہیں کہ وحی ختم ہو چکی مگر لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَات سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعی احکام کا نزول اور شریعت جدیدہ بند ہوگئی بشارات باقی ہیں اور حضرت عمر والی بات ماں کے جیسی ہے جو بچوں میں سے ایک بچے پر خوش ہو کر کہے میرا کوئی بیٹا ہے تو احمد ہے اور عیسی علیہ السلام کا نبی اللہ ہونا اور وحی کا اُن پر آنا اہلِ سنت کے مذہب میں ثابت و محقق ہے جس پر حديث مشکوۃ نزول عیسی دلالت کر رہی ہے۔آیت نمبر ۵۔ارجع۔اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے کمال صبر کا حال اور تقویٰ کا کمال اور تو کل علی اللہ اور اِسْتِغْنَاء عَنْ مَّا سَوَی اللہ کا بیان ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسی تہمتوں سے براءت حاصل کرنا چاہیے۔