اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 495
وما من دابة ١٢ ۴۹۵ یوسف ١٢ وَقَالَ الَّذِي نَجَا مِنْهُمَا وَاذَكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ ۴۶۔اور بول اٹھا جس نے نجات پائی تھی ان دونوں قیدیوں میں سے اور یاد کیا مد ت کے بعد۔أنَا أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ فَأَرْسِلُونِ میں تم کو اس کی تعبیر بتاؤں گا تو تم مجھے بھیج دو لی۔يُوْسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِي سَبِع ۴۷۔او راست باز یوسف! ہمیں فتویٰ دے سات گائیں موٹی ہیں ان کو کھا رہی ہی سات بَقَرَاتٍ بِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَع عِجَافٌ وتبع گائیں ڈبلی اور سات بھٹے ہرے اور دوسرے ستبلت خُضْرٍ وَ أَخَرَ يَبِستِ لَعَلَّى خشک ہیں تا کہ میں کوٹ جاؤں لوگوں کی طرف سُنبُلَتٍ ارْجِعُ إِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُوْنَ اور وہ معلوم کریں۔قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَابًا فَمَا ۴۸۔یوسف نے جواب دیا تم کھیتی تو کرو گے حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِي سُنْبُلِةٍ إِلَّا قَلِيلًا سات برس لگا تار تو جو کچھ تم کاٹو تو اس کو چھوڑ دینا بالیوں اور بھٹوں میں ہی مگر تھوڑا جو تم کھاؤ (صاف کر لینا)۔مِمَّا تَأْكُلُونَ ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ ۴۹۔پھر اس کے بعد سات برس آئیں گے سختی کے وہ کھا جائیں گے جو کچھ تم نے پہلے سے جمع مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّا تُحْصِنُونَ کر رکھا تھا اُن برسوں کے لئے مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے۔۔ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذُلِكَ عَامُ فِيْهِ ۵۰۔پھر آئے گا اس کے بعد ایک ایسا برس جس ے قید خانہ میں وہاں جا کر یوسف سے کہا۔بیج وغیرہ کے لئے وہ رہ جائے گا۔آیت نمبر ۴۶ - الَّذِی نَجا۔یعنی فرعون کا ساتی۔یوسف کی تعبیر کے تین روز بعد جب فرعون نے جشن سالگرہ کیا تھا اپنے عہدہ پر مقرر ہو گیا تھا اور خانساماں پھانسی دیا گیا تھا تو ساقی کو یاد آیا۔آیت نمبر ۴۷۔يَعْلَمُونَ۔تمہارے کمال اور نبوت کا حال پہچانیں۔آیت نمبر ۴۹۔سَع شِدَادٌ - حَمْلُ النَّظِيرِ وَالنَّقِيضُ عَلَى النَّقِيض۔خشک کو سات کہا کیونکہ اوپر سات تر ئیں مذکور ہو چکی ہیں۔یہی حَمُلُ النَّظِيرِ اور تقابل اور نَقِيضُ عَلَى النَّقِيض ہے۔آیت نمبر ۵۰۔عامر۔وہ سال جس میں بارش بہت ہو جب بارشیں بہت ہوتی ہیں تو بچے علی الخصوص گرم ملک اور گرم موسم کے بہت تیرتے ہیں جس کو عربی میں عوام کہتے ہیں۔یہ لفظ اسی سے مشتق ہے۔