اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 494
وما من دابة ١٢ ۴۹۴ یوسف ١٢ وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُ نَاجِ مِنْهُمَا اذْكُرُنِي ۴۔اور اس کو کہہ دیا یوسف نے جس کے لئے یقیناً سمجھتا تھا کہ وہ ان دونوں میں سے نجات عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْسَهُ الشَّيْطَنُ ذِكْرَرَيْهِ پائے گا کہ میرا تذکرہ کرنا اپنے بادشاہ کے پاس تو اس کو شیطان نے بھلا دیا بادشاہ سے ذکر کرنا فَلَيتَ فِي السِّجْنِ بِضُعَ سِنِينَ یوسف کے متعلق تو یوسف پڑے رہے قید خانہ میں کئی برس۔وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّى أَرى سَبْعَ بَقَراتِ ۴۴۔اور کہا بادشاہ نے میں دیکھتا ہوں سات يان يا كلهن سبع بھائی وسبع سالبات کا ئیں موٹی ان کو کھاری ہیں سات گائیں ڈیلی سمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعُ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنُبُلَتٍ اور سات کھٹے ہیں ہرے اور سات ہیں سوکھے خُفْرٍ وَ أَخَرَيستٍ ، يَاَيُّهَا الْمَلَا اے میرے سردارو! فتویٰ دو مجھے اور میرے اَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِنْ كُنْتُمْ لِلرُّؤْيَا خواب کی تعبیر بیان کرو جب تم خواب کی تعبیریں تعبرون بیان کیا کرتے ہو۔قَالُوا أَضْغَاتُ أَحْلَاءِ ۚ وَمَا نَحْنُ -۴۵۔انہوں نے جواب دیا یہ تو کچھ واہیات بِتَأْوِيْلِ الْأَحْلَامِ بِعَلِمِينَ خیالات اور پریشان خواب ہیں اور ہم تو ایسے خوابوں کی تعبیر دینا نہیں جانتے۔آیت نمبر ۴۳۔عِندَ رَبِّكَ - ربّ کے معنی بادشاہ ہے یہی سبب ہے کہ فرعون رب کہلا تا تھا بلکہ اب تک مصر کے بادشاہ خدیو کہلاتے ہیں جس کے معنی ہیں چھوٹا خدا اور ہماری فارسی ، اردو انشاؤں میں امراء کو خداوند نعمت لکھا جاتا ہے۔بِضْعَ سِنِينَ۔تین برس سے نو برس تک۔وسط سات برس تک۔آیت نمبر ۴۴ - بقر - گائے، بیل کو کہتے ہیں۔سمان۔اسم جنس ہے۔خواب کا عجیب طرز ہے کہ کثرت کو قلت کے رنگ میں ، بڑی چیز کو چھوٹا بنا کر بتایا جاتا ہے۔جب اچھا سماں ہوتا ہے تو ایک گائے موٹی ہوتی ہے، نہ ایک بالی سبز ہوتی ہے بلکہ عموماً سب گائیں موٹی اور بالیں سبز ہو جاتی ہیں اسی طرح قحط میں ایک گائے اور ایک بُھٹا خشک نہیں ہوتا بلکہ عموماً سب ہوتے ہیں۔علم کے لئے مشتے نمونہ از خروارے یا دیگ کا ایک دانہ کافی ہوتا ہے اسی طرح نبی کریم دجال کو شخص واحد دیکھنا یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ایک ہی ہو بلکہ اُس جماعت میں سے ایک فرد دکھلا دیا۔