اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 491 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 491

وما من دابة ١٢ ۴۹۱ یوسف ١٢ الَيْهِنَّ وَاعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَكَا وَاتَتْ كُلَّ مجلس یا تکیہ گاہ اور ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دی (خربوزہ پائے شکر کھانے کو ) اور وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِيْنًا وَقَالَتِ اخْرُجُ يوسف کو کہا کہ ان کے سامنے سے نکل تو انہوں عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَةَ اكْبَرْنَهُ وَقَطَعْنَ نے جب یوسف کو دیکھا تو اُسے بزرگ پایا اور أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هُذَا بَشَرًا کاٹ لئے اپنے ہاتھ اور کہنے لگیں حاش لله یہ تو بشر نہیں ہے ہو نہ ہو یہ تو کوئی بڑا ہی إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكُ كَرِيمٌ ۖ بزرگ فرشتہ ہے۔قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمُتُنَّنِي فِيهِ وَلَقَدْ ۳۳۔عزیز کی عورت نے کہا یہ وہی تو ہے جس کے لئے تم ملامت کرتیں اور طعنے دیتی تھیں مجھے رَاوَدْتُهُ عَنْ نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ وَلَبِنْ بے شک میں نے ہی اس کو اس کے رکنے سے لَّمْ يَفْعَلْ مَا أَمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونَا پھسلایا تھا تو اس نے اپنے آپ کو بچالیا اور اگر وہ نہ کرے گا جو میں اس سے کہتی ہوں تو نتیجہ مِّنَ الصُّغِرِينَ یہ ہوگا کہ ضرور بالضرور یہ قید کیا جائے گا اور ذلیل ہوگا۔قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَى مِمَّا ۳۴۔یوسف نے کہا اے میرے رب ! مجھے تو قید خانہ ہی بہت پسند ہے اُس سے جس کی طرف يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي یہ مجھے بلا رہی ہیں اور اگر تو دفع نہ کرے گا مجھے كَيْدَهُنَّ أَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ سے ان کی تدبیر تو کہیں میں ان کے طرف مائل نہ ہو جاؤں اور جاہلوں میں سے نہ بن جاؤں۔الجهلِينَ فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ ۳۵ - تو یوسف کے رب نے یوسف کی دعا قبول (بقیہ حاشیہ) میگا۔مسندیں۔تکیہ۔گدیلے۔فروش عالیہ۔آیت نمبر ۳۴ - السجن اَحَبُّ اِلَى - ہمارے نبی کریم علے نے ایسی دعا سے منع فرمایا ہے اور رحمت اور مغفرت کی دعا کے لئے تاکید کی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ جناب الہی سے حضرت یوسف کی دعا کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے فَاسْتَجَابَ لَهُ یعنی میں نے اُس کی بات مان لی لیکن یوسف کا کیا عجیب تقویٰ ہے کہ خدا کے لئے ہر ایک تکلیف کے اٹھانے پر تیار ہو گیا۔آیت نمبر ۳۵۔فَاسْتَجَابَ لَہ۔بڑی غلطی کی بات ہے کہ عورتیں یا مرد بچوں کو کوستے ہیں اور اپنے لئے