اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 486
وما من دابة ١٢ ۴۸۶ یوسف ١٢ لِلسَّابِلِينَ مقدمہ میں ہر قسم کے نشانات ہیں نشانات مانگنے والوں کے لئے۔إِذْ قَالُوا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ إِلَى ٩ جب کہنے لگے کہ یوسف اور اس کا (چھوٹا ) ۹۔أَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِی بھائی زیادہ پیارے ہیں ہمارے باپ کے ہم سے حالانکہ ہم زیادہ قوت دار ہیں کچھ شک ضَللٍ مُّبِينٍ نہیں کہ ہمارا باپ بڑی غلطی اور صریح عشق میں مبتلا ہے۔اقْتُلُوا يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا تَخلُ ۱۰۔یا تو مار ڈالو یوسف کو یا اسے پھینک دوکسی ملک میں کہ صرف تمہیں پر رہ جائے تمہارے لَكُمْ وَجْهُ أَبِيْكُمْ وَتَكُونُوا مِنْ بَعْدِهِ قَوْمًا صَلِحِينَ باپ کی مہربانی اور اس کے بعد ہو جانا تم سنوار والی قوم۔قَالَ قَابِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا يُوْسُفَ 11۔ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ قتل وَالْقَوْهُ فِي غَيْبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ تو نہ کرو یوسف کو ہاں اس کو ڈال دو کسی اندھے کوئیں میں، کوئی راہ چلتا اسے اٹھا لے جائے گا بَعْضُ السَّيَّارَةِ إِنْ كُنْتُمْ فَعِلِينَ جب تم کرتے ہی ہو۔قَالُوا يَا بَانَا مَالَكَ لَا تَأْمَنَّا عَلَى يُوسُفَ ۱۲ (باپ کے پاس جا کر ) بھائیوں نے کہا اے وَإِنَّا لَهُ لَنُصِحُوْنَ ہمارے باپ! کیا وجہ ہے کہ آپ ہمارا اعتبار نہیں کرتے یوسف پر اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہی ہیں؟ اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَّرْتَعْ وَيَلْعَبُ وَإِنَّا ۱۳ کل اس کو بھیجئے ہمارے ساتھ خوب کھائے اور کھیلے اور ہمیں اس کے نگہبان ہیں۔لَهُ لَحفِظُونَ آیت نمبر 9 - عُصْبَةٌ۔ہم قوت دار جماعت ہیں۔مکے والوں نے یہی کہا کہ لَوْلَا نُزِّلَ هُذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمِ (الزخرف :۳۲) یعنی امرا اور قوت داروں پر کیوں نہیں اترا۔آیت نمبر ۱۰۔اُقْتُلُوا۔یوسف کو بھی مار ڈالو۔مکہ والوں کے حال میں بھی آیا ہے وَ إِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الخ (الانفال : ۳۱) یعنی سردار دو جہاں کو قتل کرو۔آیت نمبر ۱۳۔لَحفِظُونَ۔انشاء اللہ نہیں کہتے جس سے یعقوب علیہ السلام بھی سمجھ گئے ہیں اور کہتے بھی ہیں مگر بدگمانی نہیں کرتے۔انبیاء کے اخلاق کس خوبی کے ہوتے ہیں۔