اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 480
وما من دابة ١٢ ۴۸۰ هود ۱۱ فَأَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا ۱۷۔تو جو لوگ بد بخت ہیں تو وہ آگ میں ہوں گے جلتے بھنتے اور ان کا وہاں شور وغل ہو گا لیے زَفِيرٌ وَ شَهِيقٌ خُلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّموتُ ۱۰۸۔وہ مدتوں اسی میں رہیں گے جب تک آسمان وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ اور زمین رہیں جو چاہے تیرا رب کہ بے شک تیرا رب بخوبی کر سکتا ہے جو چاہتا ہے۔فَقَالَ لِمَا يُرِيدُه وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خُلِدِينَ ۱۰۹۔اور جولوگ نیک بخت ہیں وہ جنت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَوتُ وَالْاَرْضُ إِلَّا تک آسمان اور زمین رہیں مگر جو چاہے تیرا رب کے مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءٍ غَيْرَ مَجْذُوذه بخشش ہے غیر منقطع بے انتہا۔ے گدھے کی پکار کے جیسا۔یعنی دوزخیوں کی مغفرت کرے یا جب تک چاہے رکھے۔ے تو عالم جنت سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ مقام عنایت فرمائے۔آیت نمبر ۷ ۱۰۔شَقُوْا فَفِي النَّارِ۔جو اپنے مطالب و مقاصد میں ناکام و نامراد ہوتو عربی میں شقی کہلاتا ہے یعنی نا کام اور مراد سے الگ پڑا ہوا اور یہ شق سے مشتق ہے۔آیت نمبر ۱۰۸ - السموتُ وَالْاَرْضُ۔یہاں آسمان و زمین سے مراد وہ آسمان وزمین ہیں جو عالم آخرت یا جنت و دوزخ میں ہوں گے جیسا کہ ارشاد ہے يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (ابراهيم: ۴۹)۔إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ۔اس کے معنی وسیع کرنے میں بہتوں نے بحث وکوشش کی ہے مگر میرے نزدیک اس سے اظہار عظمت و جبروت الہی مراد ہے کہ ہر ایک کام مشیت ورضائے الہی کے ماتحت ہوتا ہے۔نہ بلا مرضی۔آیت نمبر ۱۰۹۔غَيْرَ مَجْذُوذٍ۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عذاب و دوزخی کبھی چھوڑے جائیں گے۔چنانچہ ایک حدیث میں بھی آتا ہے کہ جہنم پر بھی ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی نہ رہے گا اور ہوا اس کی کھڑکیوں کو کھڑ کھڑا رہی ہو گی۔مگر بہشت والے بہشت میں سدار ہیں گے اور اُن کی عطا اُن سے کبھی چھینی نہ جائے گی۔