اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 473 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 473

وما من دابة ١٢ ۴۷۳ هود ۱۱ فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ ابْرِهِيْمَ الرَّوْعُ ۷۵ پھر جب ابراہیم کا خوف جاتا رہا اور اس کو خوشخبری پہنچی تو ہم سے جھگڑنے لگا قوم لوط وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَى يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ کے مقدمہ میں۔إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَعَلِيمُ أَوَاهُ مُنِيبٌ۔۷۶۔بے شک ابراہیم بڑا بُردبار غیروں کے لئے دل سوز ، نرم دل، آہ آہ کہنے والا ، بڑار جوع کرنے والا تھا۔يَابْرُ هِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا إِنَّهُ ۷۷۔اللہ نے فرمایا اے ابراہیم ! منہ پھیر لے قَدْ جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَإِنَّهُمْ أَتِيْهِمْ اس سے کیونکہ آچکا ہے حکم تیرے رب کا اور ان پر آنے ہی والا ہے ایسا عذاب جوٹل نہیں سکتا۔عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِی ءَ بِهِمُ۔اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَذَا يَوْمٌ آئے اس کو بُرا لگا ان کا آنا اور تنگ دل ہوا ان کے سبب سے اور بولا آج بڑی مصیبت پڑی۔عَصِيْدٌ وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِنْ ۷۹۔اور آئی قوم لوط کے پاس بے اختیار دوڑی قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُوْنَ السَّيَّاتِ قَالَ يُقَوْمِ ہوئی۔اس سے پہلے وہ لوگ بُرے کام کرتے تھے۔لوط نے کہا اے قوم ! یہ میری بیٹیں ہیں۔(بقیہ حاشیہ ) ہوتا ہے کہ اصل تخاطب اس کا عورتوں ہی سے ہے۔ضمناً مرد شامل ہوں یا نہ ہوں۔حضرات شیعہ اس پر نظر رکھیں۔آیت نمبر ۷۵ - يُجَادِلُنا۔یہ مجادلہ حضرت ابراہیم کا اپنے لئے نہ تھا بلکہ غیروں کے لئے کیونکہ وہ آگاہ تھا یعنی نرم دل۔برخلاف اس کے نوح نے اپنے بیٹے کے لئے دعا کی تھی جس میں وہ منع کئے گئے تھے۔آیت نمبر ۷۸ - يَوْمٌ عَصِیب۔کیونکہ ان بستیوں میں طوائف الملو کی تھی اور ایسی جگہ اجنبیوں کو جاسوس سمجھتے تھے۔قوم نے فرشتوں کو ایسا ہی سمجھا ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ نبیوں کو کسی پولیٹیکل مقدمہ میں پھنسا ئیں اور اس قانون کا کہ اجنبی یہاں نہ آئیں وہ اعلان کر چکے تھے جو کہ چودھواں پارہ سورہ حجر کی اس آیت سے ظاہر ہے قَالُوا أَوَلَمْ تَنْهَكَ عَنِ الْعَلَمِينَ (الحجر: (-) اے