اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 470 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 470

وما من دابة ١٢ ۴۷۰ هود ۱۱ اَنْشَاكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ نہیں۔اسی نے تم کو پیدا کیا زمین سے پھر اسی فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ تُجيب میں آباد کیا تم کو تو اس سے مغفرت چاہو پھر آئندہ بدیوں سے بچتے رہو نیکی کرتے رہو۔بے شک میرا رب ہر ایک کے پاس ہے اور دعا قبول فرمانے والا ہے۔قَالُوا يُصْلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوا قَبْلَ ۶۳۔قوم نے کہا اے صالح! تحقیق تو ہم میں هذَا أَتَتْهُنَا اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ بَاؤُنَا ہو نہار تھا اس سے ہونہار تھا اس سے پہلے۔کیا تو ہمیں منع کرتا ہے اس سے کہ ہم عبادت کریں جن کی عبادت کرتے تھے ہمارے باپ دادا اس لئے کہ ہمیں تو شک ہے اس چیز میں جس کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے۔وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ (بقیه حاشیه ) مِنَ الْأَرْضِ۔یعنی ہر ایک آدمی مٹی اور پانی سے بنتا ہے۔ہماری خوراک یا نباتاتی ہے یا حیوانی اور حیوانات کی غذا بھی نباتات ہی ہے اور نباتات مٹی اور پانی سے پیدا ہوتے ہیں اور ہماری غذا میں یہ ساری چیزیں صاف اور زہروں سے پاک ہو کر شریک ہیں تو اس طرح پر سب کا خلاصہ مٹی ہوتا ہے اور اس مٹی میں ہزاروں کیڑے ہوتے ہیں اور وہ بھی صاف ہو ہو کر ایک یا دو یا تین غایت چہار تک جنین بنتی ہیں اور عورتوں کو تَوَامَین یوں ہی پیدا ہوتے ہیں۔فَاسْتَغْفِرُوهُ - یعنی جو غلطی میں قابل الوقوع ہیں یا واقع ہو چکی ہیں یا آئندہ ہوں اُن سے حفاظت طلب کرو۔تُوبُوا۔فرمان برداری میں دو چیزیں ہوتی ہیں اول فعل۔دوسرے ترک فعل۔استغفار تو ترک فعل ہے اور تو بہ فعل ہے مثلاً زنا چھوڑ نا استغفار ہے اور عفت اختیار کرنا تو بہ ہے۔الفاظ کوئی چیز نہیں جو صرف منہ سے کہے جائیں کیونکہ جب تو بہ اور استغفار پورے معنوں میں ادا ہوتے ہیں تو زبان کیا ، ہر رگِ تن سے مغز الفاظ جاری ہو جاتا ہے۔مجیب۔یعنی دعا کی قبولیت استغفار اور تو بہ کا نتیجہ ہے اور قرب الہی کا سبب کیونکہ ان کے خیال میں یا تو وہ خود پسند نظر آتے ہیں یا کچھ ان کی یا ان کے بزرگوں کی کچی اور رسمی باتیں بگڑتی ہیں۔دعوے سے پہلے وہ ساکت ہوتے ہیں تو وہ ان کو اپنے میں ملا ہوا جانتے ہیں بلکہ اپنے سے بہتر کیونکہ وہ نیک اعمال ہوتے ہیں۔آیت نمبر ۶۳ - مَرجُوا۔انبیاء دعوئی سے پہلے ہر ایک کے مقبول خاطر ہوتے ہیں جب وہ دعویٰ کرتے ہیں تو پھر لوگ مخالفت کرتے ہیں۔