اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 465
وما من دابة ١٢ ۴۶۵ هود ۱۱ وَهِيَ تَجْرِى بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ ۴۳۔کشتی ان کو لے کر بہہ رہی تھی پہاڑ کے جیسی موجوں میں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ تُبنى کو اور وہ الگ ہو رہا تھا اے میرے پیارے ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكَفِرِينَ بیٹے ! تو بھی سوار ہو جا ہمارے ساتھ اور منکر قوم کے ساتھ نہ ہو۔قَالَ سَاوِى إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ ۴۴۔اس نے جواب دیا میں قریب ہی پناہ لے لوں گا کسی پہاڑ کی جو مجھے پانی کے صدموں سے الْمَاءِ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ بچائے گا۔نوح نے کہا کوئی دکھ سے بچانے والا إِلَّا مَنْ رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ نہیں آج اللہ کے حکم سے مگر وہی جس پر اللہ کا رحم ہو اور دونوں کے بیچ میں حائل ہو گئی موج ، تو فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ وہ ڈوبنے والوں میں ہو گیا۔وَقِيلَ يَاَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَلسَمَاءِ ۴۵۔اور حکم الہی ہوا اے زمین! اپنا پانی نگل جا أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءِ وَقُضِيَ الْأَمْرُ اور اے بادل تھم جا اور پانی خشک کر دیا گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور کشتی جا ٹھہری اللہ کے جودی وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِي وَقِيلَ بُعْدًا پہاڑ پر اور حکم ہو گیا دوری ہو ظالم قوم کو۔لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ آیت نمبر ۴۳۔نُوح ابناء۔صاحب قاموس نے لغت یوم میں اس کا نام یام بتایا ہے۔مگر قرآن سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نوح کا حقیقی بیٹا نہ تھا جیسا کہ نوح کا قول ہے کہ اِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِی اور اللہ تعالیٰ اس کی بد اعمالی کی وجہ سے اس کو نوح کی اہل سے ہی خارج فرماتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ - آیت نمبر ۴۵ - اَلْجُودِ - توریت سفر پیدائش باب ۸ درس ۴ ساتویں مہینے کی ستر ہویں تاریخ کو ارارات کے پہاڑوں پر کشتی ٹک گئی۔جُودِی کے معنی ہیں جود و رحمت کی جگہ۔مسٹر میتھو بائبل کے صفحہ ۶۰ واہ میں کہتے ہیں کہ ارارات ملک آرمینہ کا صوبہ ہے مگر یہ معلوم نہیں کہ اس ملک کے کون سے پہاڑ پر کشتی ٹھہری تھی۔سکندر کے وقت میں بروس نے یہ قرار دیا تھا کہ جبل جودی جو گر دستان کے پہاڑوں آرمینہ کے دکن کی طرف ہے وہی پہاڑ ہے اور کشتی کے ٹکڑے بھی اس پہاڑ پر موجود خیال کرتے تھے اور ایک خانقاہ کشتی بھی بنا تھا جو 4 ے ے میں تجلی سے نیست ہوا۔ارارات اصل میں ارائت کا بگڑا ہوا ہے۔یہ پہاڑ دجلہ اور فرات کے درمیان ہے۔