اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 40
البقرة ٢ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا سے روکتا ہے اور اُن کے اجاڑنے کی کوشش کرتا أوليك مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا ہے یہ لوگ اس قابل نہیں کہ اب ان پاک مکانوں میں داخل ہوسکیں نڈر ہو کر لے۔ان لوگوں کی دنیا خَابِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ق ہی میں ذلت ہے اور آخر کا ر تو بڑا عذاب ہوگا۔وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا ۱۱۲ اور مشرق اور مغرب تو اللہ ہی کا ہے تم جس طرف فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ منہ پھیر و اُدھر اللہ ہی کی توجہ کا لحاظ رکھو بے شک اللہ بڑی وسعت دینے والا بڑا جاننے والا ہے۔وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَنَه بَلْ لَهُ مَا۔اور کسی قوم نے کہا کہ اللہ نے ایک بیٹا اختیار کیا في السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ یہ بات اللہ کے شان کے لائق نہیں۔پاک ذات ہے وہ، ہاں آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اُسی کا مال فنتون ہے۔وہ سب کے سب اللہ کے فرماں بردار ہیں۔بَدِيعُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَى ۱۱۸۔وہ آسمان و زمین کو (بغیر مادہ اور نمونہ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ۔کے ) بنانے والا ہے اور وہ جب کسی چیز کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تو سوائے اس کے نہیں اس کو کہہ دیتا ہے کہ ہو تو وہ ہو جاتی ہے۔۔وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلَّمُنَا الله 119 اور جاہل نادانوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہم سے اَوْ تَأْتِيْنَا ايَةٌ كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ کیوں کلام نہیں کرتا یا ہماری طرف کوئی نشان b ے۔چاہیے تھا کہ خوف سے معمور ہو کر آتے۔۲۔نصاری کے اعتقاد کے مطابق اللہ تعالیٰ پاک اور قدوس نہیں۔ے۔مرنے کے بعد وہی زندہ کرے گا۔آیت نمبر ۱۱۶- فَأَيْنَمَا تُوَتُوا الخ۔اے اصحاب رسول اللہ علیے جدھر تم توجہ کرو گے اُدھر اللہ مدد فرمائے گا ملک فتح ہو جائے گا وحدۃ الوجودی غلطی پر ہیں ثبوت اصلی نہیں دے سکتے اور فناء نظری کو غلطی سے فناء وجودی سمجھ رہے ہیں، وَهُوَ الْبَاطِلُ بِالشُّهُودِ وَالْوُجُودِ حَقًّا۔