اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 459
وما من دابة ١٢ ۴۵۹ هود ۱۱ وَرَحْمَةً أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ ایک گواہی دینے والا اس کے رب کی طرف سے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب مقتدا اور يَكْفُرُ بِهِ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ * رحمت ہے یہی لوگ اس نبی کو مانتے ہیں اور فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ جو کوئی اس کا منکر ہو جماعتوں میں سے تو اُن کا فَلَاتَكَ ربَّكَ وَلكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ وعده گاہ آگ ہے ، تو اے مخاطب ! تو اس سے شبہ میں نہ پڑ۔بے شک وہ سچ ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا ۱۹۔اور اس سے بڑھ کر ظالم کون شخص ہو گا جو جھوٹا بہتان باندھے اللہ پر۔یہی لوگ ہیں جو أوليكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ پیش کئے جائیں گے اپنے رب کے حضور اور الْأَشْهَادُ هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوا عَلَى گواه یه گواہی دیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں رَبِّهِمْ ۚ أَلَا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّلِمِينَ ) نے جھوٹ بولا تھا اپنے رب پر۔ہوشیار ہو جاؤ کہ ظالم بے جا کام کرنے والوں پر ہی اللہ کی لعنت ہے۔الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ ۲۰۔جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور اس راہ کو قرآن و نبی سے۔(بقیہ حاشیہ) دنیا میں اسی لئے مبعوث کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور فیضان کا گواہ ہے۔شاھد سے مراد ایک اللہ کا فرستادہ ہے جیسے کہ زمانہ ماضی میں آپ کی گواہی دینے والے موسیٰ کو بھی شاھد کہا گیا چنانچہ فرمایا وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِيَّ إِسْرَاءِيْلَ عَلَى مِثْلِهِ (الاحقاف: ۱۱) گویا تمام انبیاء آپ ہی کی سچائی کا ثبوت دینے کے لئے دنیا میں پیدا ہوئے (ب) اور پڑھتا ہو اس کے ساتھ ایک گواہ اللہ کی طرف سے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت اور گواہ موجود ہو اس کی نبوت کا، تو ایسا شخص مثل کافر کے طالب جاہ دنیا ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔آیت نمبر ۱۹۔وَمَنْ أَظْلَمُ۔یعنی گر میں مفتری ہوں تو بہت جلد ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيلِ الخ (الحاقة : ۴۵) میں مفتری کی سزا قتل ارشاد ہوتی ہے۔اور توریت میں قتل وصلیب کی۔