اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 455 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 455

وما من دابة ١٢ ۴۵۵ هود ۱۱ لا مِنْهُ أَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ سینے کو تا کہ وہ بھید چھپائیں اللہ سے سن رکھو! جب وہ بہن لیتے ہیں اپنے کپڑے سے اللہ خوب يَعْلَمُ مَا يُرُونَ وَمَا يُعْلِنُون م جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر إِنَّهُ عَلِيْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ کرتے ہیں کیونکہ وہ بڑا واقف ہے سینوں کے بھید۔وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ۔اور کوئی چلنے والا نہیں زمین پر مگر اللہ ہی رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُل فِي كِتَبٍ مُّبِيْنٍ کے ذمہ اس کی روزی ہے اور وہ جانتا ہے ہے مستقل رہائش کی جگہ اور عارضی رہائش کی جگہ آدمی کی ، یہ سب کچھ لکھا ہوا کتاب میں کھلا کھلا ہے۔وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ فِي - وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو۔سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ پیدا کیا چھ وقت میں اور وہ پانی جس پر زندگی کا مدار ہے اُس پر بھی اللہ ہی کا عرش ہے یعنی لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَلَبِنُ حکومت تا کہ تم کو انعام دے ، دیکھیں کہ کون تم جب وہ مکاری کا لباس پہن لیتے ہیں۔(بقیہ حاشیہ) ثِيَابَهُمْ۔جب وہ مکاری اور دغا بازی اور دھوکہ دہی کا لباس پہنتے ہیں یعنی جھوٹ کو حق کے لباس میں ظاہر کرتے ہیں اور حق کو چھپاتے ہیں اور عقائد باطلہ کو دل میں جگہ دیتے ہیں عجیب طرح سے بھگت بنے پھرتے ہیں تا کہ دغا کو سچ بتا ئیں۔آیت نمبر ۷۔عَلَى اللهِ رِزْقُهَا۔صحابہ کو ہجرت کا حکم ہو رہا ہے وہ پوچھ رہے ہیں حضور وہاں گھر ہوگا نہ سامان تو اللہ تسکین دیتا ہے کہ خدا ہی سب کچھ دے گا۔مُتَقَرَّهَا - مُسْتَقَر دنیا میں تو جہاں وہ رہے اور آخرت میں بہشت یا دوزخ۔مُسْتَوْدَعَهَا - قبر یا رحم یا دنیا یا حشر یا کہیں عارضی ٹھہرنے کی جگہ۔آیت نمبر ۸ - الماء۔یعنی جب تمام زمین اور آسمان کے اجرام سیال گیس کی طرح تھے اس پر بھی اللہ کی حکومت تھی یا نطفہ انسان و حیوانات پر اور عارفوں کے پاس الماء سے وہ پانی مراد ہے جو تذکر و الہی و خشیتِ الہی سے آنکھوں سے جاری ہو اور صوفی کہتے ہیں کہ وہ لقا کا پانی ہے اور یہ سیدھی بات ہے کہ اس سے مراد وہی پانی لیں جو پانی ہے یعنی پانیوں پر بھی اسی کی حکومت ہے چونکہ پہلی آیت میں فرمایا کہ چونکہ خلق اور حکومت ہماری ہے اسی واسطے ہمارے ہی ذمہ چاہئے دوسری آیت پہلی آیت کے لئے دلیل ہے۔