اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 450
يعتذرون ١١ ۴۵۰ یونس خَلْفَكَ آيَةٌ وَاِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ دیں گے تاکہ پچھلوں کے لئے تجھے نشانی بنا ئیں۔بے شک بہت سے آدمی ہماری آیتوں سے ضرور غافل ہی ہیں۔ايتِنَا تَغْفِلُونَ وَلَقَدْ بَوَّانَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّا صِدْقٍ ۹۴۔اور ہم نے جگہ دی بنی اسرائیل کو عمدہ جگہ، روزی دی پاکیزہ ستھری چیزوں میں سے پھر وَرَزَقْنَهُمْ مِّنَ الطَّيِّبَتِ فَمَا اخْتَلَفُوا انہوں نے جھگڑا نہیں کیا مگر عالم ہوئے بعد، حَتَّى جَاءَهُمُ الْعِلْمُ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِی بے شک تیرا رب اُن میں فیصلہ کرے گا قیامت بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِمَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ کے دن جن چیزوں میں وہ جھگڑا کرتے تھے۔فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِمَّا اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ -۹۵ پھر اگر اے مخاطب! تو شک میں ہے اُس۔فَسُلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُونَ الْكِتَبَ مِنْ چیز سے جو ہم نے اتاری تیری طرف تو تو پوچھ لے ان لوگوں سے جو پڑھتے رہتے ہیں کتاب تجھ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَ كَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلا سے پہلے بے شک تیرے پاس حق آچکا تیرے رب کی طرف سے تو تو شک کرنے والوں میں تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ سے نہ ہو جانا۔وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِايَتِ اللهِ ٩٦۔اور نہ ان لوگوں میں سے ہونا جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو تو تو نقصان پانے والوں فَتَكُونَ مِنَ الْخَسِرِينَ میں سے ہو جائے گا۔(بقیہ حاشیہ) مصر کے عجائب خانہ میں رکھی ہوئی ہے دیکھو کتاب اکتشاف عالم نُنَجِّيْكَ - نُنَجِي نَجْواى مشتق ہے جس کے معنی اونچی جگہ کے ہیں۔آیت نمبر ۹۴ - جَاءَ هُمُ الْعِلْمُ - اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنَ الْغَافِلِينَ الْمُتَخَالِفِينَ بَعْدَ مَا اَعْطَانَا الْعِلْمَ۔آمین ثم آمین۔آیت نمبر ۹۵ - فَإِن كُنتَ في شَكٍ - اس میں مخاطب نبی کریم ﷺ اور مومن آپ کا متبع نہیں کیونکہ آپ کے لئے یہ آیت وارد ہے قُلْ هَذِهِ سَبِيلِ اَدْعُوا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي (یوسف: ۱۰۹) مراد اس سے خطاب منکر یا متر و دکو ہے مِمَّا اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ سے نبی کریم کی تعیین نہیں ہوتی کیونکہ اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمُ الآية میں خطاب کو عام کر دیا ہے اور عقلاً بھی جائز نہیں کہ نبی کریم کو کوئی شک ہو۔