اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 447
يعتذرون ۱ ۴۴۷ یونس إلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَابِه بِايْتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا بارون کو فرعون اور اس کی رُعب دار قوم کی طرف وَكَانُوْا قَوْمًا مُجْرِمِينَ ہماری آیتیں دے کر تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ قوم (جناب الہی سے ) قطع تعلق کرنے والی تھی۔فَلَمَّا جَاءَ هُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ ۷۷۔جب ہماری طرف سے حق بات اُن کے پاس آئی تو وہ کہنے لگے یہ تو بڑی دل ربا با تیں ہیں۔هذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ قَالَ مُوسَى اَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا ۷۸۔موسیٰ نے کہا کیا تم ایسی بات کہتے ہو حق جَاءَكُم أَسِحْرُ هَذَا وَلَا يُفْلِحُ بات کی نسبت جب وہ تمہارے پاس آئی کہ کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر دھوکا باز فتح مند الشجرُونَ با مراد نہیں ہوتے۔قَالُوا أَجِثْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ۷۹۔قوم نے کہا کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا أَبَاءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي ہے کہ تو ہمیں اُس دین سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور تمہیں دونوں کی الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ۔سرداری ہو جائے اس ملک میں اور ہم تو تم دونوں کو ماننے والے نہیں۔وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُونِي بِكُلِ سحرٍ ۸۰ اور فرعون نے کہا تم میرے پاس لے آؤ۔سب ماہر جادوگروں کو۔عليم فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُوسى -۸۱۔پھر جب جادوگر آگئے تو اُن سے موسیٰ نے کہا تم کرو جو کچھ تم کرنے والے ہو۔الْقَوْا مَا أَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ فَلَمَّا الْقَوْا قَالَ مُوسى مَا جِئْتُمْ بِهِ ۸۲۔پھر جب کیا تو موسیٰ نے کہا یہ جو تم کرتے b السِّحْرُ إِنَّ اللهَ سَيُبْطِلُهُ إِنَّ اللهَ لَا ہو یہ تو بڑا دھوکا ہے۔بے شک اللہ اسے قریب ہی بگاڑ دے گا۔کچھ شک نہیں کہ اللہ درست نہیں کرتا شریر بدکاروں کے کام۔يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ آیت نمبر ۷۸ - لَا يُفْلِحُ الشحِرُونَ۔جادوگروں کی پہچان اور اُن کا انجام اس آیت شریف میں بیان ہوا ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ذلیل رہتے ہیں۔