اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 38 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 38

۳۸ البقرة ٢ سبِلَ مُوسَى مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ رسول سے (ایسے ہی بے جا) سوالات کرو جیسا کہ اس سے پہلے موسیٰ سے سوالات کئے گئے۔الْكُفْرَ بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ اور جو شخص ایمان کو کفر سے بدلتا ہے وہ ضرور راہ راست سے بھٹک گیا ہے۔السبيل وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ لَو 11۔ان اہل کتاب میں سے بہت سے لوگ ایسے يَرُدُّونَكُمْ مِّنْ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا میں جو یہی چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ایمان لانے کے بعد پھر کافر کر دیں اُس حسد کی وجہ سے جو اُن حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ کی جانوں میں ہے حق بات ظاہر ہو جانے کے بعد لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَ اصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِي اُن کو اُن کی حالت میں پڑے رہنے دو اور ان کی صحبت سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے اللهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ امر کے ساتھ آجائے گا (یعنی خود پکڑلے گا، سزا دے دے گا) بے شک اللہ ہر چاہے ہوئے پر قادر ہے۔لے سوالات کئے گئے۔الخ یعنی أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً تک خطرناک الفاظ سوء ادبی کے کہے گئے۔(بقیہ حاشیہ) دیا گیا یہ ہے کہ ان کی تطبیق کی کوشش کی جائے جیسا کہ مفسرین عظام کا داب ہے۔چنانچہ یہ کام حضرت فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا یعنی تقریباً سب آیات کی تطبیق کر دی جن آیات سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ یہ آیات منسوخہ قرآن میں ہیں ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آیت سے یہاں مراد قرآن ہی کی عبارت و آیات ہیں بلکہ لفظ آیت قرآن کریم میں وسیع ہے کہیں تو نبیوں کو اور ان کے شواہد علی النبوۃ کو لفظ آیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔چنانچہ اس آیت میں جو کہ مَانَنسخ میں آیت ہے یہود کی شریعت کا نَنسَخُ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کا ماقبل اور مابعد یہود کے حالات کے ساتھ متعلق ہے۔اگر آیت کے معنی آیات قرآن ہی لئے جاویں تو وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَّكَانَ آيَةٍ (النحل :١٠٣) الآية جو اس بات کی دلیل ہے کہ منسوخ تلاوتاً وحکماً مرتفع ہے اور اس کی جگہ ناسخ نے لے لی ہے تو پھر ناسخ و منسوخ کا قضیہ ہی کیا رہا۔اگر آیت کے وسیع معنی لے لیں جو بمعنی نشان ہے تو پھر قرآن کے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں رہتی۔قرآن کی آیات کو منسوخ قرار دینا بڑی جرأت کا کام ہے جب تک کہ خود اللہ تعالیٰ یا اُس کا رسول کسی آیت کو ناسخ منسوخ نہ فرماویں۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ منسوخ ہے یا ناسخ۔بعض نے تو یہاں تک جرأت کی ہے کہ آیات احکام تو ایک طرف آیات مشتملہ علی الاخبار کو بھی منسوخ قرار دے دیا اللَّهُمَّ أَصْلِحُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ الله