اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 37 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 37

۳۷ البقرة ٢ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلى تو اُس سے بہتر یا اُس کے مانند لاتے ہیں کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک شے کا اندازہ کرنے والا ہے۔كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ ۱۰۸۔کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان اور زمین کی وَالْأَرْضِ وَمَالَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ سلطنت اللہ ہی کی ہے۔اللہ کے سوا تمہارا کوئی بھی حامی اور مددگار نہیں ہے۔وَلي وَلَا نَصِيرِ لَمْ تُرِيدُونَ اَنْ تَسْتَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا 109 - (اے ایماندارو!) کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے (بقیہ حاشیہ ) کے کروفر کے حالات جاتے رہے اور ان کی کتاب عملاً منسوخ ہوگئی یعنی قرآن کی جامعیت کے سامنے ، جس کی تعریف ہے فِيهَا كُتُبْ قَيْمَةُ (البينة: ٤) حاجت نہ رہی۔دوسرے شیخ کے معنی جھوٹ باتوں اور کلام اور منصوبوں کو مٹا دینا جیسا کہ فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطن (الحج: ۵۳) یہ اصل نسخ ہے جو قرآن شریف میں ایک ہی جگہ آیا ہے۔آنحضرت علیہ اور چاروں خلفاء رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِيْن سے نسخ قرآنی ثابت نہیں۔مفسروں کا مطلب نسخ سے مجمل مفصل یا عام خاص ہوتا ہے یعنی مفسرین کے ناسخ اور منسوخ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک آیت مجمل کی دوسری آیت مفصل نے تفسیر کی تو وہ اوّل کو منسوخ اور ثانی کو ناسخ کہیں گے۔دراصل اس سے مراد شریعت یہود و نصاری ہے جو قرآن سے منسوخ کی گئی، قرآن کی آیات مراد نہیں اور اگر قرآن کی آیات مراد ہوں تو منسوخ آیت مٹ گئی اور بھول گئی۔موجود فی القرآن بَيْنَ دَفْتَین نہیں۔تفصیلاً ناسخ و منسوخ کا بیان یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں ایک حصہ آیات کا وہ ہے جو کہ منسوخ ہے ایسی آیات کی تعداد (۵۰۰) سے لے کر چار تک لوگوں نے پہنچائی ہے پھر ان کی تعیین میں اختلاف ہے۔ایک آیت کو بعض منسوخ قرار دیتے اور دوسرے اس کو ناسخ قرار دیتے ہیں۔ہم نے ان تمام منسوخ آیات میں غور کر کے دیکھا ہے۔ان کے منسوخ کرنے کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی معلوم نہیں ہوئی کہ قائلین نسخ کو ایک آیت کے ایک معنی خیال میں آئے جو انہوں نے دوسری آیت کے مخالف پائے تطبیق دے نہیں سکے پھر ایک کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار دیا تا کہ اس تدبیر سے قرآن کو لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء :۸۳) کے عیب سے منزہ ٹھہرائیں۔اللہ تعالیٰ ان کی نیک نیت کا ان کو بدلہ نیک دے۔ان منسوخ آیات کے متعلق کوئی روایت عن النبیل نہیں پائی جاتی کہ آپ نے کسی آیت کو منسوخ قرار دیا ہو۔خلفاء اربعہ سے بھی یہ بات ثابت نہیں کہ کوئی آیت منسوخ موجود فی القرآن ہو جیسا کہ مذکور ہوا۔طریق ان آیات کے متعلق جن کو منسوخ قرار