اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 433
يعتذرون ١١ ۴۳۳ یونس وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَتٍ قَالَ الَّذِينَ ۱۲۔اور جب ان پر ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی لَا يَرْجُونَ لِقَاءَ نَا ائْتِ بِقُرانِ غَيْرِ هُدًا جاتی ہیں تو وہ لوگ کہتے ہیں جن کو یقین نہیں ہے ہم سے ملنے کا کہ کوئی اور قرآن اس کے سوا أوْ بَدِلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي اَنْ أُبَدِلَهُ مِنْ تو لا یا اس کو بدل دے۔تو جواب دے کہ یہ میرا تِلْقَآئِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُولّی کام نہیں کہ میں اس کو بدل ڈالوں اپنی ذات إلَى انِي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي سے میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے اگر میں نافرمانی کروں میرے رب کی عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ تو میں ڈرتا ہوں بڑے وقت کے عذاب سے۔قُل لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُ عَلَيْكُمْ وَلَا ا۔تو کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں نہ پڑھتا اَدْرِيكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمُ عُمُرًا مِنْ وه قرآن تم پر اور نہ تم کو واقف کراتا اس سے (کیونکہ) بے شک میں رہ چکا ہوں بڑی عمر * قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔اس سے پہلے تم میں تو کیا تم کو کچھ بھی عقل نہیں ہے۔فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا ۱۸۔پھر اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو او كَذَّبَ بِأَيْتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلا وے بے شک بامراد نہیں ہوتے قطع تعلق کرنے والے مفتری کا ذب۔ے یعنی میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا آیت نمبر ۱۶۔یہ بد مذاقوں کا مذاق ہے قرآن کی جگہ مثنوی اور گانا سننے وغیرہ کی خواہش ہونا کسی نیک انسان نے ایسا کیا ہو تو وہ بیمار سمجھا جائے اور اس کی بات کی تاویل کی جائے نہ کہ قرآن وحدیث سے مقابلہ۔آیت نمبر ۱۷۔لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرا۔یعنی دعویٰ نبوت سے پہلے چالیس سال تمہارے ملک میں رہا ہوں تو کیا کبھی تم نے سوچا ہے کہ میں نے دغا بازی یا فریب یا کوئی بناوٹ کبھی کی۔اس آیت شریف سے رسول اللہ کی پاک زندگی کا ثبوت اعلیٰ درجہ کا ملتا ہے اور ان دو آیتوں میں نبی کی شناخت کرنے کے لئے دو باتیں فرماتا ہے اول یہ کہ اس کی وہ عمر جو دعویٰ سے پہلے ہے نہایت پاک وصاف گزری ہو۔کیونکہ جو مخلوق پر کذب کو ترک کرتا ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک دم خالق پر افترا کرے۔دوسری بات دعوی کے بعد وہ کامیاب ہوتا اور اس کا دشمن نا کام ہوتا ہے۔