اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 431
يعتذرون ۱۱ ۴۳۱ یونس أوليك ماونهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا و یہی لوگ ہیں جن کی آرام گاہ آگ ہے۔ان کی کمائی کے سبب سے۔يَكْسِبُونَ اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ ۱۰۔بے شک جن لوگوں نے اللہ کو مانا اور اچھے يَهْدِيْهِمْ رَبُّهُمْ بِإِيْمَانِهِمْ ۚ تَجْرِى مِنْ کام کئے ان کو راہِ مقصود دکھائے گا ان کا رب تَحْتِهِمُ الْأَنْهَرُ فِي جَنَّتِ النَّعِيمِ ان کے ایمان کے سبب سے۔بہہ رہی ہیں ان کے نیچے نہریں بڑی آسائیش کے باغوں میں۔دَعُونَهُمْ فِيهَا سُبْحَنَكَ اللهُمَّ ا۔وہاں ان کی آواز میں سُبْحَانَكَ اللهُمَّ ہوں گی وَتَخَيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَم وَاخِرُ دَعْوبُهُمْ (یعنی اے ہمارے اللہ! کیا ہی تیری پاک ذات ہے ) اور آپس میں کہیں گے سلام (یعنی خیر و خوبی آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وسلامتی سے رہو ) اور ان کا تکیہ کلام یہ ہو گا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين - ( یعنی سب حمد الله ہی کی ہے جو آہستہ آہستہ سب جہانوں کو کمال کی طرف پہنچانے والا ہے)۔وَلَوْ يُجَلُ اللهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ ۱۲۔اور اگر اللہ لوگوں کے واسطے جلدی سختی ڈال (بقیہ حاشیہ مستحق ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گندہ کر دیتے ہیں (۸) آٹھویں غفلت سے بھولے ہوئے لوگ انکل بازی کی باتیں کر کے لعنت الہی کے نیچے آجاتے ہیں (۹) نویں غفلت سے نصیحت و یاد دہانی غیر مؤثر ہوتی ہے اور خدا ترسوں پر مؤثر اور یہی سعید اور شقی کی پہچانت ہے (۱۰) دسویں غفلت سے جب قساوت قلبی و بدکاری انتہا درجہ کو پہنچ جاتی ہے تو بد بخت لوگ سرکشی اور مخالفت سعیدوں سے کرنے لگتے ہیں اور شیطانی جامہ پہن لیتے ہیں۔آیت نمبر 1 - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ۔یعنی سب حمد اللہ ہی کی ہے جو آہستہ آہستہ سب جہانوں کو کمال کی طرف پہنچانے والا ہے اور حسب مراتب مقاصد و مطالب پر فائز کرنے والا ہے۔آیت نمبر ۱۲- يُعجل الله۔بیوقوف انسان بدی کی دعائیں ایسی تیزی اور دلچسپی سے مانگتا ہے علی الخصوص عورتیں جیسے کوئی بڑی بھلی اور خیر کے لئے عاجزی اور گڑ گڑا کے دعائیں کر رہا ہے۔اس بات کو اللہ تعالیٰ یاد دلا کے فرماتا ہے کہ اگر ہم ان کی بددعائیں جلدی منظور فرما لیتے جو بھلائی کے طرح مانگی گئیں ہیں تو تباہ اور ستیا ناس ہو جاتے اور تمام کام درہم و برہم ہو جائیں جیسے ابو جہل وغیرہ نے دعا مانگی فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا