اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 429 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 429

يعتذرون ۱ ۴۲۹ یونس أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ ایماندار دوستوں کو کہ ان کا مضبوط قدم ہے۔ان کے رب کے نزدیک، اور منکر کہتے ہیں تیری الْكَفِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسحِرٌ مُّبِينٌ۔باتیں تو ہیں دل ربا پر ملک وقوم سے صریح قطع تعلق کرانے والی ہیں۔اِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمواتِ ۴۔کچھ شک نہیں تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین کو چھ وقت میں بنایا پھر وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى صاحب حکومت بنا ، سب امور پر انتظام کرتا ہے عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِنْ شَفِيعٍ ہر ایک کام کا کوئی ساتھی نہیں اور نہ حمایتی اور نہ إِلَّا مِنْ بَعْدِ اذْنِهِ ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ سفارشی مگر اس کی اجازت کے بعد۔یہی اللہ تمہارا رب ہے تو تم اسی کی خالص عبادت کرو فَاعْبُدُوهُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ کیا تم یاد اور غور نہیں کرتے۔اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللهِ حَقًّا ۵۔تم سب کو اسی کی طرف چلنا ہے اور اللہ کا ۵۔وعدہ برحق اور سچا ہے۔اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا إنَّهُ يَبْدَوُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِى ط ہے پھر بار بار بناتا ہے تاکہ عوض دے ان کو الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ بِالْقِسْطِ جنہوں نے اللہ کو مانا اور بھلے کام کئے عدل سے وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ اور جنہوں نے حق چھپایا ان کو پینا ہے بہت اونٹتا ہوا پانی اور ٹمیں دینے والا عذاب کیونکہ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ وہ کفر کرتے تھے۔ے۔اکثر وحی میں دو چیزیں ہوتی ہیں دشمنوں کو ڈرا اور دوستوں کو خوش خبری سنا۔(بقیہ حاشیہ ) صِدْقٍ۔عرب میں ہر بدی کا نام کذب ہے اور عمدہ بات کا نام صدق ہے۔لَسحِرٌ مُّبِينٌ۔یہ نبوت کی دلیل ہے کہ دشمن تک اقرار کر اٹھے۔( کہ تیری باتیں تو ہیں دلربا پر ملک و قوم سے قطع تعلق کرانے والی ہیں) کیونکہ ان کی اصطلاح میں فوق العادت امر کو سحر کہتے ہیں۔آیت نمبر ۴۔سِتَّةِ آیا ھے۔ہر ایک ٹھے کا کمال چھ مرتبوں کے بعد ہوتا ہے مثلاً چھ ماہ میں کھیتیاں پیدا ہوکر پک جاتی ہیں۔آدھا سال ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ امور۔شفیع۔یہ اور ایک دلیل ہے نبوت کی یعنی شفیع اور حمایتی سوائے رسول کے کوئی نہیں ہوتا اور رسول بغیر اللہ کے حکم کے کوئی نہیں بن سکتا۔آیت نمبر ۵۔حمیم۔کیونکہ حق پوشی جوش غضب کا موجب ہو گئی ہے تو پانی میں بھی لذت اور کر دیت نہ رہی۔