اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 423
يعتذرون ١١ ۴۲۳ التوبة ؟ قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ کے بعد کہ ان پر صاف صاف کھل چکا کہ وہ جہنمی ہیں۔اَصْحَبُ الْجَحِيمِ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ ابْراهِيمَ لِأَبِيْهِ إِلَّا ۱۱۴۔اور ابراہیم کا مغفرت مانگنا اپنے چا کے عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَه لئے وہ تو ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ خاص اپنے چچا سے کر چکا تھا پھر جب ابراہیم کو أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلهِ تَبَرَّأُ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خوب معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گیا۔کچھ شک نہیں کہ ابراہیم لاَوَّاهُ حَلِيـ بڑا آہ آہ کہنے والا نرم دل بُردبار تھا۔وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِلَّ قَوْمًا بَعْدَ إِذْ هَدُهُمْ ۱۱۵۔اور اللہ ایسا نہیں کہ ہٹا دے کسی قوم کو اُس حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُمْ مَّا يَتَّقُونَ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ کو راہ پر لگانے کے بعد یہاں تک کہ بتادے ان کو وہ چیزیں جن سے ان کو پر ہیز کرنا چاہئے بے شک شَيْءٍ عَلِيمٌ اللہ ہر ایک چیز کا بخوبی جاننے والا ہے۔(بقیہ حاشیہ ) آگ لگاتے ہیں اور ان کے قلوب رقیقہ کا کیا حال ہوتا ہو گا اگر وہ شریعت سے مؤدب نہ ہوتے اور اخلاق الہیہ کا پر تو نہ رکھتے تو ایسے لوگوں کا نام و نشان نہ رہنے دیتے۔سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے إِنَّ الشِّرُكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ - آیت نمبر ۱۱۴۔لابیہ۔اب کا لفظ عام ہے یعنی چچا اور تایا کو بھی کہتے ہیں اور یہاں چا ہی مراد ہے جس سے دعا ابرا ہیم نے کرنے کا وعدہ فرمایا تھا دیکھو پارہ ۲۸ و ۱۷۔اور جب معلوم ہوا کہ وہ عدو اللہ ہے تو پھر اس سے حضرت ابراہیم بیزار ہو گئے۔چا کو اب کہنے کا محاورہ دیکھو پارہ ایک رکوع سولہ اور پارہ سولہ رکوع چھ اور والد کا لفظ جو خاص ہے ان کے لئے حضرت ابراہیم نے دعا کی ہے اور اس کے ساتھ کوئی تنبیہ و ممانعت نہیں۔دیکھو پارہ تیرہ رکوع اٹھارہ۔ابراہیم کے والد کا نام تارح تھا جیسا کہ تو رات اور زرقانی شرح مَوَاهِبُ الرَّحمن میں مذکور ہے یہ آذر اس شہر کا بڑا آدمی تھا۔آیت نمبر ۱۱۵۔لیضل۔جبر و تقدیر کے مسئلے پر ہر قوم میں بہت سی بحثیں ہوئی ہیں اور ہوتی ہیں اگر قرآن تدبر کے ساتھ لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا تو کبھی غلطی نہ کھاتے۔کیونکہ یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ قرآنی احکام انسان کے ان قومی کے لئے ہیں جن پر اس کو اختیار ہے۔اس بناء پر اعتقاد تثلیث اور کفارہ اور بدعات اور رسوم واھیہ جو طبتی یا شرعی طور پر مفید نہ ہوں۔غلط اور بُرے اور قابل اعتقاد و عمل عقلاء نہیں۔