اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 35
۳۵ البقرة ٢ تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ امتیاز کے لئے ہیں تو کافر نہ بنی۔پس سیکھتے ہیں ان دونوں سے ایسی باتیں جس سے عورت مرد میں فرق کرتے ہیں اور وہ تو کسی کو بھی اس کے ذریعہ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِه ، وَمَا هُم بِضَارِینَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ تکلیف نہیں پہنچا سکتے (ہاں ضرر تو اسی کو پہنچتا وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ ہے) جس کو اللہ چاہے اور (شریر لوگ ایسی باتیں وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَريهُ مَالَهُ فِي سیکھتے ہیں جو اُن کو ضرر پہنچاتی ہیں اور نفع نہیں دیتیں اور بے شک وہ خود بھی جانتے ہیں کہ جو (بقیہ حاشیہ ) مضافات میں بھی تھے انہوں نے اپنے بعض آدمی رسول اللہ علہ کوگرفتار کرنے کے لئے بھجوائے مگر کچھ کامیابی نہ ہوئی۔وجہ یہ ہوئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے یہودیو! سابق میں تو تم اس وجہ سے اس تدبیر میں کامیاب ہوئے کہ ہمارے حکم کے ماتحت کام کر رہے تھے۔اب چونکہ تم یہ نسخہ صاحب معراج، اصفیاء کے سرتاج ہمارے رسول کے مقابلہ میں استعمال کرتے ہو اس لئے ہرگز کامیاب نہ ہو گے۔چنانچہ چند آدمی شاہ فارس کی طرف سے ہمارے حضور علیہ کوگرفتار کرنے آئے۔سردار دو جہاں نے ان کو فرمایا تمہاری درخواست کا میں کل جواب دوں گا۔صبح دوسرے دن ارشاد فرمایا کہ جس نے تمہیں میری طرف بھیجا ہے اُس کے بیٹے نے اُسے قتل کر دیا۔وہ یہ بات سن کر بہت گھبرائے اور حیران ہوئے اور خائب و خاسر واپس پھرے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب یہ یہودی ایسی باتیں سیکھتے ہیں جو ان کو مضر ہیں ہرگز مفید نہیں اور اس کرتوت کا آخرت میں کوئی صلہ نہیں یعنی یہ کارروائی خدا کی مرضی کے تحت نہیں قابل اجر نہیں۔ہاروت ماروت نے جو سکھایا تھا وہ اس میں نبیوں کے حکموں کی اطاعت تھی۔اللہ کی مرضی کے موافق کارروائی تھی۔اس لئے کامیابی ہوئی تھی لیکن اب چونکہ اس میں نبی کی نافرمانی میں وہ کام کیا جاتا ہے اس لئے کچھ کام نہ دے گا۔کیا اچھا ہوتا کہ وہ ایسی بُری تھے کے بدلے میں اپنی جانوں کو نہ بیچتے۔بلکہ اب تو ان کو یہ مناسب ہے کہ نبی پر ایمان لائیں منتقی بن جائیں۔اللہ کے یہاں بہت اجر پائیں اور بصورت نفی و عطف یعنی مَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ - وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ یعنی ایک پارٹی ہاروتی ماروتی نام والی اور دوسری اندر جال اور نقش سلیمان والی جو اپنے کو فیض یافتہ سلیمان کہتی تھی اور پہلی اپنے کو فرشتوں کی شاگرد۔عطاء الرحمن خدا داد فیض والی پارٹی بتلاتی تھی اور اپنے کو سلیمان کی طرف منسوب نہیں کرتی تھی۔یہ دونوں پارٹیوں کا اللہ نے انکار فرمایا جیسا کہ حضرت سلیمان کے کفر کا یعنی نہ سلیمان کا فر تھا نہ دو پارٹیوں پر جو سلیمان کے زمانہ میں مدعی بنی ہوئی تھیں، خدا نے کچھ اتارا۔واللہ اعلم بالصواب۔وَمَاهُمْ بِضَارِين به - اس کی تشریح اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى تا کامل ۴ آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے (المجادلة : ۹ تا ۱۲) اور وہاں بھی بِاِذْنِ اللہ کا لفظ موجود ہے ملاحظہ ہو۔مقام مذکور لفظ نجوی کے تحت۔